1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی بحران کے حل کے لیے روسی سفارتی کوششوں میں تیزی

روس کی طرف سے شامی بحران کے کسی سیاسی حل کی تلاش کے تناظر میں شامی حکومتی اور ملک کی منقسم اپوزیشن کے اراکین آئندہ ہفتے غالباً ماسکو میں ملاقات کریں گے۔

نیوز ایجنسی انٹر فیکس نے روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدونوف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں تحریر کیا ہے،’’ہم آئندہ ہفتے اپوزیشن نمائندوں کو مشاورت کی غرض سے ماسکو مدعو کریں گے۔ یہ ملاقات غالباً شام کے حکومتی نمائندوں کے ساتھ ہوگی‘‘۔ بوگدونوف نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ اس اجلاس میں کون کون سے اپوزیشن اراکین شامل ہوں گے۔

ماسکو کی طرف سے شامی تنازعے کے سیاسی حل کے لیے سفارتی کوششوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ وہ تنازعہ ہے جو اب تک دو لاکھ پچاس ہزار انسانوں کو بے گھر کرنے کا سبب بن چُکا ہے۔

روس کی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ بُدھ کو اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے شام اسٹیفن دے مستورا سے ماسکو میں ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں وہ دمشق اور شامی اپوزیشن کے مابین مکالمت شروع کرنے کی کوششوں کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

Österreich vor Syrien-Konferenz in Wien Lawrow und Kerry

ویانا میں گزشتہ ہفتے شام کے بحران کے بارے میں ہونے والی کانفرنس

گزشتہ جمعے کو ویانا میں ہونے والے بین الاقوامی امن مذاکرات میں روس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ مستقبل میں شام کے بحران کے بارے میں ہونے والی بات چیت میں شامی اپوزیشن گروپ بھی شامل ہوں۔ اس سلسلے میں اس نے سعودی عرب کے ساتھ ایک 38 ناموں کا تبادلہ بھی کیا ہے۔

اس فہرست میں زیادہ تر نیشنل کوئلیشن فار سیریئن ریوولوشنری اینڈ اپوزیشن فورسز SNC کے سابقہ اور حالیہ اراکین کے نام شامل ہیں۔ یہ شام میں مغرب نواز سیاسی اپوزیشن بلاک ہے۔

ان ناموں میں SNC کے سابق سربراہ معاذ الخطیب اور موجودہ صدر خالد خوجہ کے ساتھ ساتھ سیاسی، مذہبی اور نسلی متنوع گروپوں، جس میں اخوان المسلمون اور کرسچئین پرو ڈیموکریسی موومنٹ کے نمائندوں کے نام بھی شامل ہیں۔

Syrien Russischer Luftangriff in Aleppo

شام میں روسی فضائی حملوں نے عالمی برادری میں تشویش پیدا کر دی ہے

خالد خوجہ نے گزشتہ ویک اینڈ پر کہا تھا کہ شام میں روسی فضائی حملوں کا مقصد صدر بشار الاسد کو سہارا دینا تھا اور ان حملوں سے اسلامک اسٹیٹ کو مزید مدد ملی ہے جو ملک کے زیادہ تر علاقوں کا کنٹرول سنبھال چُکے ہیں۔

کریملن کے ایک ترجمان دمتری پشکوف نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ روس کی شام میں عسکری حکمت عملی کو گزشتہ ویک اینڈ پر مصر میں ہونے والے ہوائی جہاز کے حادثے کی تحقیقات کے نتائج سے جوڑنا ایک غیر مناسب عمل ہے۔

DW.COM