1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی بحران، مشرقی وسطیٰ کے رہنماؤں کی پوٹن سے ملاقاتیں

اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم اور ابوظہبی کے کراؤن پرنس شیخ محمد بن زیاد آل نہان ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں شامی بحران کے علاوہ دیگر علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

default

روسی صدر پوٹن شامی صدر بشار الاسد کے ایک بڑے حامی ہیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کریملن کی طرف سے جاری کردہ بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اردن اور ابو ظہبی کے رہنما اپنے دورہ روس کے دوران منگل کے دن انتہا پسند گروہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف جاری کارروائی پر بھی گفتگو کریں گے۔ یہ امر اہم ہے کہ حالیہ ہفتوں اور دنوں میں مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کے رہنما ماسکو کا درہ کر چکے ہیں یا کرنے والے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکام بھی رواں ہفتے ایک عسکری ڈیل پر مذاکرات کے لیے روس کا دورہ کریں گے۔ مبصرین کے مطابق ایران اور روس کے مابین کوئی بھی عسکری ڈیل امریکا اور اسرائیل کے لیے مایوسی کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ ماسکو حکومت شامی صدر بشار الاسد کے ایک بڑی حامی ہیں۔ شامی بحران کے خاتمے کے لیے ماسکو نے اپنی کوششوں کو تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسی مقصد کے لیے روسی صدر مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک کو اعتماد میں لینے کی کوشش میں بھی ہے۔

گزشتہ چار سال سے جاری شامی تنازعے کے باعث اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دو لاکھ چالیس ہزار افراد لقمہ اجل جبکہ لاکھوں افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔

Syrien Angriff auf Sabadani

شامی تنازعے کے باعث دو لاکھ چالیس ہزار افراد لقمہ اجل جبکہ لاکھوں افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں

کریملن نے بتایا ہے کہ اردن کے بادشاہ روس کے دورے کے دوران شامی تنازعے پر گفتگو کے علاوہ اردن میں پہلے نیوکلیئر اسٹیشن کے قیام پر بھی بات جیت کریں گے۔ وہ 1999ء میں بادشاہت کے منصب پرفائز ہونے کے بعد بارہ مرتبہ روس کا دورہ کر چکے ہیں۔ اس ملاقات میں دونوں رہنما متوقع طور پر اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جاری کارروائی پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ امر اہم ہے کہ اردن میں 1.5 رجسٹرڈ شامی مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اے ایف پی نے ماسکو حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ولادیمیر پوٹن اور ابو ظہبی کے کراؤن پرنس کی ملاقات میں علاقائی استحکام کی کوششیں بنیادی ایجنڈا ہو گا۔ دونوں رہنما مشرقی وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں پائیدار امن اور سلامتی کے حوالے سے بھی مذاکرات کریں گے۔ بتایا گیا ہے کہ اس دوران توانائی کے موضوعات کو بھی کلیدی اہمیت حاصل ہو گی۔