1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی بحران اور روسی فضائی حملے، یورپی وزرا کی ملاقات

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ آج لکمسمبرگ میں ملاقات کر رہے ہیں جس میں روسی فضائی حملوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں شامی بحران کے حل اور صدر بشار الاسد کے مستبقل کے کردار کے بارے میں غور وخوض کیا جانا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق 2011 سے شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کی جان لے چکی ہے۔ خانہ جنگی سے قبل اس عرب ملک کی کُل آبادی 22.4 ملین تھی تاہم اب اس کا نصف سے زائد یا تو اندرونی طور پر بے گھر ہو چکا ہے یا پھر ملک سے باہر مہاجرت کر چکی ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق مہاجر کیمپوں کی بگڑتی صورتحال کے تناظر میں رواں برس شامی مہاجرین کی ایک بہت بڑی تعداد پناہ کی تلاش میں یورپی ممالک کا رُخ کر رہی ہے۔ اسی باعث یورپی بلاک کو دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔

یورپی یونین شام تنازعے کے حل کی کوششوں میں اقوام متحدہ کی کوششوں کی معاونت کر رہی ہے، دوسری طرف یہ یورپی بلاک شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف لڑنے والے بین الاقوامی اتحاد کا بھی حصہ ہے۔

روس نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف شام میں فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے

روس نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف شام میں فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے

شام کے حوالے سے بین الاقوامی سفارت کاری 30 ستمبر کو اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی جب روس نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف شام میں فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ تاہم مغربی حکومتوں کا کہنا ہے کہ روس جو شامی صدر بشارالاسد کا ایک بڑا حامی ہے، وہ اسد کے دیگر مخالف باغیوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

خیال رہے کہ یوکرائنی تنازعے کے باعث ماسکو حکومت اور یورپی یونین کے درمیان پہلے سے ہی تناؤ موجود ہے۔ تاہم یوکرائنی تنازعہ آج پیر 12 اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات کے ایجنڈا میں شامل نہیں ہے۔

ڈی پی اے کے مطابق یورپی یونین کے ایک سینیئر اہلکار کا جمعہ نو اکتوبر کو کہنا تھا کہ یورپ کے اندر ’’اس بات پر اتفاق رائے موجود ہے کہ اسد شام میں مستقبل کی حکومت کا حصہ نہیں ہوں گے۔‘‘ تاہم بعض رُکن ریاستوں کا جن میں جرمنی بھی شامل ہے، کہنا ہے کہ شام کے مستقبل کے بارے میں ہونے والے مذاکرات میں اسد حکومت کو بھی شامل ہونا چاہیے۔