1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی باغیوں کا ترک فوج پر حملہ

آج اتوار کو ترک افواج اور القاعدہ کی سابقہ شامی شاخ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی انقرہ حکومت نے ادلب میں ایک بڑی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سیرین آبزرویٹری اور عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ ادلب کی سرحد پر پیش آیا۔ اس دوران ہلاکتوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اتوار کی صبح تحریر الشام ( ایچ ٹی ایس) کے دہشت گردوں نے ترک فوج کی ایک گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ ترکی اور ادلب کے مابین تعمیر شدہ دیوار کے کچھ حصوں کو وہاں سے ہٹانے میں مصروف تھی۔ ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’ حملے کے جواب میں ترک فوج نے جوابی فائرنگ کی اور علاقے پر بم بھی برسائے۔‘‘

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ انقرہ حکومت کے حامی باغی شمال مغربی شام میں ایک ایسی عسکری کارروائی کی قیادت کریں گے، جو دہشت گردوں کے تحریر الشام نامی اتحاد کے خلاف ہے۔

سیرین آبزرویٹری کے مطابق اس دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، ’’تاہم اس واقعے کا ایردوآن کی جانب سے عسکری کارروائی کے آغاز کے اعلان سے بظاہر کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا۔‘‘ اس سے قبل کئی ہفتوں سے ایچ ٹی ایس کے خلاف کسی نئے آپریشن کی  قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں اور  شاید اس کا تعلق ادلب اور ارد گرد کے علاقوں میں ایک ’’غیر عسکری خطے‘‘ کے قیام کے منصوبے سے بھی ہے۔

ترکی، روس اور ایران جنگ سے تباہ حال ملک شام میں چار جنگ بندی زون کے قیام پر اتفاق کر چکے ہیں۔ اس تنازعے میں ایران اور روس کا شمار شامی صدر بشارالاسد کے حامیوں میں ہوتا ہے۔ شام میں مارچ 2011ء  سے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک سوا تین لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

 

DW.COM