1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی باشندے کتے بلیاں کھانے پر مجبور

شامی شہر مضایا میں انسانی بحران کی صورتحال اپنے انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے فوڈ پروگرام نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اس علاقے کے لوگوں کو امداد نہ پہنچی تو مزید ہزاروں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔

شامی شہر مضایا میں انسانی بحران کی صورتحال اپنے انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے فوڈ پروگرام نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اس علاقے کے لوگوں کو امداد نہ پہنچی تو مزید ہزاروں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق مضایا کا علاقہ شامی فوج کے گھیرے میں ہے جس نے گزشتہ برس اکتوبر سے اس علاقے میں خوراک کی ترسیل روک رکھی ہے۔ مضایا کے ایک ڈاکٹر خالد محمود کے مطابق، ’’خوراک نایاب ہے۔ ہم شیر خوار بچوں کو دودھ تک فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ آج ایک 10 سالہ بچہ خوراک کی کمی کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ لوگ زندہ رہنے کے لیے گھاس کھا رہے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر خالد محمود نے ڈی پی اے کو مزید بتایا، ’’مضایا کے زیادہ تر لوگ خوراک کی شدید کمی کا اس حد تک شکار ہیں کہ قریب 10 دن قبل سے انہوں نے کتوں اور بلیوں کو ذبح کر کے ان کا گوشت کھانا شروع کر دیا ہے۔‘‘

مضایا شامی دارالحکومت دمشق سے 25 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور یہ شہر گزشتہ برس جولائی سے شامی حکومتی فورسز اور لبنانی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے گھیرے میں ہے۔

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کی ایک خاتون ترجمان بیٹینا لوئشر نے ڈی پی اے کو بتایا کہ مضایا کی قریب 40 ہزار کی آبادی کے لیے اشیائے خوراک سے لدے ٹرک پچھلے ایک ماہ سے اندر جانے کی اجازت ملنے کے منتظر ہیں۔

فوڈ پروگرام نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اس علاقے کے لوگوں کو امداد نہ پہنچی تو مزید ہزاروں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔

فوڈ پروگرام نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اس علاقے کے لوگوں کو امداد نہ پہنچی تو مزید ہزاروں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق انسانی بنیادوں پر مضایا کے علاقے میں خوراک کی آخری سپلائی گزشتہ برس اکتوبر کے وسط میں ہوئی تھی جس میں خوراک کے علاوہ دیگر ضروریات کی چیزیں شامل تھیں۔ اس ایجنسی کی ترجمان بیٹینا لوئشر نے ڈی پی اے کو بتایا، ’’ورلڈ فوڈ پروگرام کو مضایا کے بارے میں ملنے والی رپورٹوں اور وہاں انسانی حوالے سے صورتحال پر شدید تشویش ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے محاصرے میں گھرے اس شہر میں ہزاروں زندگیاں خطرے سے دو چار ہیں۔‘‘

ریڈکراس کے مطابق چونکہ شہر میں بجلی بھی نہیں ہے اور نہ ہی جلانے کے لیے ایندھن اس لیے لوگ شدید سردی کے باعث بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ ڈی پی اے کے مطابق شامی اپوزیشن اتحاد سیریئن نیشنل کولیش نے ’انسانی المیے‘ سے متنبہ کیا ہے۔ اس اتحاد کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’سویلین کی زندگی بچانے کے لیے فوری عمل کیا جانا چاہیے اور مضایا اور شام کے دیگر علاقوں کو محاصرہ ختم کیا جائے۔‘‘

الجزیرہ کے مطابق دسمبر میں مضایا میں اکتیس افراد بھوک کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ شام کے حالات پر نظر رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی مضایا میں انسانی بحران کی تصدیق کی ہے۔ آبزرویٹری کی طرف سے پیر چار جنوری کو کہا گیا تھا کہ شامی فوج کی طرف سے مضایا کے گرد لگی بارودی سرنگوں اور محاصرے کے باعث کم از کم 23 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔