1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی باشندوں کو امدادی سامان پہنچایا جائے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے شامی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بھوک کے شکار انسانوں تک امدادی سامان پہنچانے کی اجازت دے۔ ادھر روس نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شام میں سیز فائر ڈیل کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اقوام متحدہ کے حوالے سے سولہ ستمبر بروز جمعہ بتایا ہے کہ خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں لوگوں کو فوری مدد کی ضرورت ہے اور دمشق حکومت کو چاہیے کہ وہ امدادی اداروں کو اجازت دے کہ متاثرہ لوگوں کی مدد کی جا سکے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب امریکا اور روس شام میں جنگ بندی ڈیل میں اڑتالیس گھنٹے کی توسیع پر رضا مند ہوگئے ہیں۔

امریکا اور روس کی ثالثی میں طے پانے والی اس جنگ بندی کے تحت شامی فورسز نے باغیوں کے خلاف کارروائی روک دی ہے تاکہ خانہ جنگی میں محصور لوگوں تک خوراک اور دیگر امدادی سامان پہنچایا جا سکے۔ اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی حلب میں ڈھائی لاکھ انسان پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔

اس جنگ بندی ڈیل کے تحت البتہ داعش، النصرہ اور دیگر جہادی گروہوں کے خلاف عسکری کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اقوام متحدہ میں روسی سفیر وٹالی چُرکِن نے کہا ہے کہ امریکا اس ڈیل کے تحت اپنی ذمہ داریاں مکمل طریقے سے نہیں نبھا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی لیے ماسکو حکومت چاہتی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس ڈیل کی توثیق کرے۔

روس کے مطابق اس ڈیل کے تحت شامی فورسز مرحلہ وار مرکزی محاذوں سے پیچھے ہٹ رہی ہیں لیکن باغی فورسز ایسا نہیں کر رہی ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کے مطابق شام میں اکا دکا پرتشدد کارروائیوں کے علاوہ مجموعی طور پر فائر بندی پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔

Syrien Hilfslieferungen in Ghuta

مشرقی حلب میں ڈھائی لاکھ انسان پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں فوری امداد کی ضرورت ہے

دوسری طرف اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ امدادی سامان سے بھرے ٹرک ترکی اور شام کی سرحدوں کے مابین بفر زون موجود ہیں لیکن ابھی تک اس سامان کو حلب میں ضرورت مند لوگوں تک نہیں پہنچایا جا سکا ہے۔

اقوام متحدہ سے وابستہ اعلیٰ اہلکار ڈیوڈ سوانسن کے مطابق وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسّی ہزار انسانوں کے لیے خوراک لیے چالیس ٹرک حلب سے ستّر کلو میٹر دور موجود ہیں لیکن وہ ابھی تک یہ سامان متاثرین کو نہیں پہنچا سکے ہیں۔