1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی اپوزیشن کی خفیہ امریکی پشت پناہی : وکی لیکس

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں پیر کو چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق وکی لیکس سفارتی کیبلز نے انکشاف کیا ہے کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے خفیہ طور پر شام میں اپوزیشن گروپوں کی پشت پناہی کی تھی۔

default

واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے وکی لیکس کے اس تازہ ترین انکشاف میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ 2006 ء سے شام کے جلا وطنوں کے ایک گروپ کی پشت پناہی کر رہا ہے، جو لندن میں قائم ایک سیٹیلائٹ ٹی وی چینل ’ بردۃ‘ چلا رہا ہے۔ اس چینل کی مالی معاونت سمیت شام کے اندر حکومت مخالف باغیوں کی سرگرمیوں کے لیے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اب تک چھ ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔

’بردۃ‘ ٹی وی چینل نے اپریل 2009 ء میں نشریات کا آغاز کیا تھا۔ تاہم اس نے گزشتہ ماہ شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی بڑی پیمانے پر کوریج کا سلسلہ جاری رکھا اور شامی صدر بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے لیے شام میں جاری سیاسی مہم کی ٹیلی وژن نشریات کے ذریعے بھرپور تشہیر کی۔

واشنگٹن پوسٹ نے مزید لکھا ہے کہ شام کی اپوزیشن کی مدد کے لیے امریکی پیسے کے بہاؤ کا سلسلہ دراصل سابق امریکی صدر جاج ڈبلیو بُش کے دور میں اُس وقت شروع ہوا تھا، جب 2005 ء میں دمشق حکومت کے ساتھ امریکہ کے سیاسی تعلقات جمود کا شکار ہوگئے تھے۔

Former President George W. Bush talks with eight-year-old Whitney Grace Dodson, as he signs copies of his book, Decision Points at a store near his Dallas home, Tuesday, Nov. 9, 2010. (AP Photo//The Dallas Morning News, G.J. McCarthy) MANDATORY CREDIT. NO SALES. MAGS OUT. TV OUT. INTERNET USE BY AP MEMBERS ONLY

جارج بُش کے دور میں شام کے حکومت مخالفین کی مالی معاونت کا سلسلہ شروع ہوا تھا

امریکی اخبار نے مزید تحریر کیا ہے کہ شام کے اپوزشن گروپوں کی مالی معاونت اور پشت پناہی کا سلسلہ موجودہ امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں بھی جاری رہا جبکہ دوسری جانب اوباما انتظامیہ نے بشار الاسد کے ساتھ امریکہ کے سیاسی تعلقات دوبارہ سے اُستوار کرنے کی کوششیں بھی شروع کیں۔ اس سال جنوری میں وائٹ ہاؤس کی طرف سے دمشق میں امریکی سفیر کی تقرری کا اعلان بھی کیا گیا۔ امریکہ کی طرف سے یہ اقدام گزشتہ چھ سالوں میں پہلی بار کیا گیا۔

آیا امریکہ شام کے اپوزیشن گروپوں کی پُشت پناہی ہنوز جاری رکھے ہوئے ہے، واشنگٹن پوسٹ نے تاہم لکھا ہے کہ اس بارے میں یقین سے کُچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم وکی لیکس کیبلز اس طرف اشارے کر رہے ہیں کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے شام کے اپوزیشن گروپوں کی مالی معاونت کے لیے کم از کم گزشتہ ستمبر تک رقم مختص کی گئی تھی۔

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت خاصی سنجیدہ شکل اختیار کر چُکی ہے۔ گزشتہ ماہ ہونے والے حکومت مخالف پُر تشدد مظاہروں کی آگ پوری ملک میں پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم گروپوں کے اندازوں کے مطابق مظاہروں کے دوران کم از کم 200 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ شامی حکام اس کا ذمہ دار مسلح باغیوں کو قرار دے رہے ہیں۔

ALTERNATIVE CROP OF BRAM127.- U.S. President Barack Obama speaks at the Theatro Municipal in Rio de Janeiro, Brazil, Sunday, March 20, 2011, a theater in a historic Rio de Janeiro square where a 1984 protest set the stage for the eventual end of a 20-year military dictatorship. We've seen the people of Libya take a courageous stand against a regime determined to brutalize its own citizens. Across the region, we have seen young people rise up - a new generation demanding the right to determine their own future, the president said. (Foto:Pablo Martinez Monsivais/AP/dapd)

اوباما انتظامیہ نے بظاہر شام کے ساتھ سیاسی تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے

اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ماضی میں منظر عام پر نہ آنے والے کیبلز سے پتہ چلا ہے کہ دمشق میں امریکی سفارتخانے کے اہلکار 2009 ء میں اُس وقت فکر مند ہو گئے تھے، جب شامی خفیہ ادارے کی طرف سے امریکی سرگرمیوں کی نوعیت کے بارے میں سوالات اُٹھائے جانے لگے۔ اخبار کے مطابق کیبلز انکشافات سے پتہ چلا ہے کہ 2009 ء اپریل میں امریکہ کے اعلیٰ سفارتی عہدیداروں نے ایک دستاویز پر دستخط کیے تھے، جن میں درج تھا کہ ’ شامی حکام کو اس بارے میں امریکہ پر کوئی شک نہیں گزرے گا کہ وہ غیر قانونی سیاسی گروپوں کی پشت پناہی کے ذریعے شام میں اقتدار کی تبدیلی کی کوشش کر رہا ہے‘۔

کیبلز انکشافات میں کہا گیا ہے کہ شام کے اندر اور بیرون ملک حکومت مخالف عناصرکی امریکی پشت پناہی میں جاری سرگرمیاں ممکنہ طور پر بار آور ثابت ہو سکتی ہیں۔

دریں اثناء واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے لندن میں قائم ’ بردۃ‘ ٹیلی وژن چینل کی مالی معاونت اور شام میں حکومت مخالف گروپوں کی پشت پناہی سے متعلق وکی لیکس کے نئے انکشافات پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس