1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی اپوزیشن عرب لیگ کے مشن سے مایوس

شامی اپوزیشن نے اس بارے میں مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ شام کا دورہ کرنے والے عرب لیگ کے مبصرین صدر بشار الاسد کی طرف سے حکومت مخالف تحریک کے خلاف نو ماہ سے جاری کریک ڈاؤن کو روک سکیں گے۔

اپوزیشن کے اراکین اِس بارے میں شک و شبے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہمسایہ عرب ریاستوں سے آئے ہوئے اِس چھوٹے سے مبصر مشن کی سرگرمیوں کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز درحقیقت بحران زدہ شہروں سے نکل جائیں گی اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پُر امن مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے گی۔

اسد حکومت کے کچھ مخالفین کا خیال یہ ہے کہ اِس مبصر مشن کی ناکامی کی صورت میں ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ دمشق کے ایک نواحی علاقے دوما سے تعلق رکھنے والے ایک اپوزیشن کارکن زیاد نے کہا، ’ہمیں نہیں معلوم کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ہمیں یقین ہے کہ اسد اور اُس کی حکومت ہمیں وہ کچھ نہیں دیں گے، جو ہم چاہتے ہیں۔ اسد کی خواہش ہے کہ ہم ہتھیار اٹھا لیں اور ایک دوسرے کے خلاف لڑنا شروع ہو جائیں۔ ہم چاہتے تھے کہ عرب لیگ کا یہ مشن کوئی حل نکالے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی ہماری مدد نہیں کر سکتا‘۔

Syrien Arabische Liga Mission in Deraa

شام میں عرب لیگ مشن کے اراکین جنوبی شہر درعا میں

جلا وطن اپوزیشن رہنماؤں کا اصرار ہے کہ اب اقوام متحدہ کو مداخلت کرنی چاہیے۔ اپوزیشن کی شامی قومی کونسل کے رہنما برہان غالیون نے پیرس میں الجزیرہ ٹی وی چینل سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسد حکومت اپنے کیے ہوئے وعدوں پر قائم نہیں رہتی تو پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا:’’ہم سلامتی کونسل کی طرف بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔‘‘ جہاں شامی اپوزیشن وسیع تر بین الاقوامی مداخلت کی خواہاں ہے، وہاں روس اور چین سلامتی کونسل کی طرف سے ایسی کسی مداخلت کے حق میں نہیں ہیں۔

شام میں عرب لیگ کے مبصرین کی موجودگی کے باعث کچھ مقامات پر فوج شہروں سے پیچھے ضرور ہٹی ہے لیکن سکیورٹی فورسز کی جانب سے اپوزیشن کے اراکین کو ہلاک کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جمعہ 30 دسمبر کو ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں 27 افراد ہلاک ہو گئے۔

احتجاجی تحریک کا ایک بڑا مرکز سمجھے جانے والے شہر حمص میں سکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکار فری سیرین آرمی کے ارکان کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہو گئے۔ یہ گروہ اُن فوجیوں پر مشتمل ہے، جو اسد کی فوج کو چھوڑ چکے ہیں اور جنہوں نے اپوزیشن کے اضلاع کی حفاظت کے لیے نو گو ایریاز قائم کر رکھے ہیں۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے SANA کے مطابق جمعے کے روز ملک بھر میں ’اسد کے حق میں‘ اور ’شام کے خلاف ہونے والی سازِش‘ کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہروں میں اسد کے حامیوں نے اپوزیشن کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کی خبروں کو ’لغو اور بے بنیاد‘ قرار دیا۔

جہاں بظاہر اسد حکومت کے جلد خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ، وہاں شامی اپوزیشن نے اسد کے بعد کے دور کے حوالے سے ابھی سے ٹھوس منصوبہ بندی بھی شروع کر دی ہے۔ ہفتے کو شامی قومی کونسل SNC نے ایک اعلامیے میں بتایا کہ جمعے کو جمہوری تبدیلی کے لیے قومی رابطہ کمیٹی NCB اور شامی قومی کونسل نے قاہرہ میں ایک دستاویز پر دستخط کیے ہیں، جس میں ان دونوں شامی اپوزیشن گروپوں نے دیگر نکات کے علاوہ اسد کے بعد کے عبوری دور میں ’شہری حقوق کے احترام اور ایک جمہوری ریاست کی تشکیل‘ پر بھی اتفاق کیا۔

رپورٹ: خبر رساں ادارے / امجد علی

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM