1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی امن مذاکرات: اہم ترین مسئلہ بشار الاسد کا مستقبل

جنیوا میں جاری شامی امن مذاکرات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جس میں فریقین غیر معمولی دباؤکا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ اب اس بات چیت کے مرحلے میں طے ہونا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کا مستقبل کیا ہو گا؟

جنیوا میں جاری شامی امن مذاکرات میں دمشق حکومت اور حزب اختلاف کے وفود اقوام متحدہ کے زیر اہتمام امن بات چیت میں شریک ہیں۔ حزب اختلاف کی کوشش ہے کہ دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ اگر کوئی دیرپا امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو بشارالاسد کا مستقبل کیا ہو گا؟ جبکہ دوسری جانب دمشق حکومت کا وفد اس موضوع پر بات کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے شام اسٹیفان دے مستورا نے اس موضوع کو ’’مسائل کی ماں‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا،’’ دمشق حکومت ابھی صرف ان اصولوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جن کا تعلق سیاسی میدان میں ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں سے ہے۔‘‘

جنیوا میں مذاکرات کو جاری ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ اس دوران دے مستورا نے حزب اختلاف کے وفد کی تجاویز اور ان کے رویے کی تعریف کی جبکہ حکومتی نمائندوں کے طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا، ’’ مجھے امید ہے کہ اگلے ہفتے تک صورتحال مزید واضح ہو جائے۔‘‘

2012ء اور 2014ء میں بھی اقوام متحدہ شام میں امن کی خاطر بات چیت منعقد کرا چکی ہے تاہم اس دوران بھی’’بشارالاسد کا مستقبل‘‘ ایک ایسا نکتہ تھا، جس کی وجہ سے مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوئے۔ امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی حمایت یافتہ تنظیموں کا موقف ہے کہ شام میں کسی ممکنہ امن معاہدے میں بشارالاسد کے اقتدار کا خاتمہ بھی شامل ہونا چاہیےجبکہ دمشق حکومت اور روس اس کی مخالف ہیں۔

جنیوا مذاکرات شروع ہونے سے قبل بشارالاسد بہت مضبوط پوزیشن میں تھے۔ تاہم روس کی جانب سے اچانک اپنی افواج کو شام سے نکالنے کے اعلان کو اسد کے لیے ایک جھٹکا قرار دیا گیا۔ ماسکو حکومت چاہتی ہے کہ شامی جنگ کے فریقین بات چیت کے اس دور کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کسی ممکنہ معاہدہ تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کریں۔