1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی امن عمل کے لیے میونخ میں ملاقات مگر کامیابی کی امید کم

شام میں قیام امن کے لیے اہم طاقتوں کی ملاقات کل جمعرات 11 فروری کو جرمنی میں ہو رہی ہے۔ تاہم روس کی طرف سے شامی حکومت کی فوجی مدد کے تناظر میں اس بات کی امید کم ہی کی جا رہی ہے کہ اس عمل کا کوئی مثبت نتیجہ نکلے گا۔

گزشتہ قریب پانچ برسوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد ہلاک جبکہ کئی ملین افراد ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے شام کے لیے خصوصی نمائندے اسٹیفان ڈے مِستورا کی کوششوں سے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کا عمل گزشتہ ہفتے منقطع ہو گیا تھا۔ اس کی ایک وجہ روس کی طرف سے شامی صدر بشار الاسد کی مدد کے لیے ان گروپوں کے خلاف فضائی حملے ہیں، جنہیں مغرب کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان مذاکرات کی بحالی کے لیے اب 25 فروری کی تاریخ دی گئی ہے۔

سفارتی کوششوں کو ناکامی سے بچانے کے لیے امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری اس کوشش میں ہیں کہ میونخ میں انٹرنیشنل سیریا سپورٹ گروپ (ISSG) کی میٹنگ سے قبل ہی شام میں ایک تو جنگ بندی کرائی جائے اور دوسرا جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں تک انسانی بنیادوں پر امداد پہنچانے کا دائرہ بڑھایا جائے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ روس تاہم کیری کے ساتھ اس بات پر الجھ رہا ہے کہ ماسکو کے اصل مقصد کو محفوظ بنایا جائے جو دراصل مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر معاملہ طے کرنے کی بجائے اپنے حامی بشار الاسد کی فتح کا خواہشمند ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس ذریعے نے روئٹرز کو بتایا، ’’یہ بات اب ہر ایک پر واضح ہے کہ روس دراصل کوئی متفقہ حل نہیں بلکہ اسد کی فتح چاہتا ہے۔‘‘

حلب کے گرد ونواح میں ہونے والی جنگ کے نتیجے میں تمام اطراف کے قریب 500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

حلب کے گرد ونواح میں ہونے والی جنگ کے نتیجے میں تمام اطراف کے قریب 500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شامی صدر بشارالاسد کے ایک سینیئر ایڈوائزر بثينہ شعبان کا منگل کے روز کہنا تھا کہ اس فوجی یلغار میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی جس کا مقصد حلب کو باغیوں سے واپس حاصل کرنا اور ترکی کے ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ بنانا ہے۔

حلب کا محاصرہ

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران شامی فورسز، حزب اللہ اور دیگر شیعہ ملیشیاؤں نے روسی فضائی حملوں کی مدد سے مختلف علاقوں پر اب تک کامیابی سے قابض چلے آ رہے شامی باغیوں کو پسپا کرنا شروع کر دیا ہے اور ان باغیوں کو حلب شہر میں محصور کر دیا ہے۔ حلب پہلے بھی باغیوں اور شامی فورسز کے درمیان تقیسم تھا۔ واضح رہے کہ ان باغیوں کا دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ وہ باغی ہیں، جنہیں مغربی دنیا مدد فراہم کر رہی ہے۔

یہ پیشرفت اقوام متحدہ اور مغربی حکام کے لیے تشویشناک ہے، جن کا یہ ماننا ہے کہ روس، شام اور ایران کی اس مہم کا مقصد جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کی میز پر شامی اپوزیشن کی پوزیشن کو کمزور کرنا، گراؤنڈ پر انہیں قتل کرنا اور ماسکو کی طرف سے ستمبر میں فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے پہلی بڑی فتح حاصل کرنا ہے۔ ایک مغربی سفارت کار کے مطابق، ’’جنگ بندی کا حصول جلد ممکن ہو جائے گا کیونکہ تمام تر اپوزیشن مر چکی ہو گی۔‘‘

مانیٹرنگ گروپ کے مطابق حلب کے گرد ونواح میں ہونے والی جنگ کے نتیجے میں تمام اطراف کے قریب 500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ باغی گروپوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو واشنگٹن ان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ امن مذاکرات میں شریک ہوں جبکہ دوسری طرف میدان جنگ میں ان کی مدد پر کوئی خاص توجہ نہیں ہے۔ ان کی طرف سے تازہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اینٹی ایئرکرافٹ میزائلوں کی اپیل کوئی نہیں سن رہا۔