1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی اسکول پر روسی فضائی حملہ، کم از کم ایک درجن بچے ہلاک

خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں روسی فضائیہ کی پیر گیارہ جنوری کے روز کی گئی ایک تازہ کارروائی میں ایک اسکول اس حملے کی زد میں آ گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم بارہ بچوں سمیت پندرہ افراد ہلاک ہو گئے۔

لبنانی دارالحکومت بیروت سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ فضائی حملہ شامی صوبے حلب میں کیا گیا اور اس واقعے میں کم از کم 20 افراد زخمی بھی ہوئے، جو سب کے سب یا تو اس اسکول میں زیر تعلیم بچے بچیاں تھے یا وہاں پڑھانے والی خواتین اساتذہ۔

DW.COM

شام کی خانہ جنگی پر نظر رکھنے والی اپوزیشن تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ شمالی شام کے صوبے حلب میں ماسکو کے جنگی طیاروں سے یہ حملہ انجارہ نامی قصبے میں بظاہر عسکریت پسندوں پر کیا گیا، لیکن ایک مقامی اسکول بھی اس حملے کی زد میں آ گیا۔ مرنے والوں میں سے کم از کم بارہ اس اسکول کے بچے ہیں اور باقی تین ایسے بالغ افراد جو حملے کے وقت اسکول کی حدود میں موجود تھے۔

برطانوی دارالحکومت لندن میں قائم سیریئن آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ اس روسی فضائی حملے اور اس میں ہلاکتوں کی انجارہ میں انسانی حقوق کے مقامی کارکنوں نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

اے ایف پی نے مزید لکھا ہے کہ شمالی صوبے حلب میں کل اتوار دس جنوری کو دن کے آغاز سے ہی نہ صرف حکومتی دستوں اور شامی باغیوں کے مابین شدید جھڑپیں جاری تھیں، بلکہ وہاں دن بھر فضائی حملے بھی کیے جاتے رہے تھے۔ شام کے اس صوبے کا بڑا حصہ دمشق حکومت کے ایسے مخالفین کے کنٹرول میں ہے، جن میں اسد حکومت کے خلاف سرگرم مسلح باغی بھی شامل ہیں اور مختلف مسلح اسلام پسند گروہ بھی۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق آج پیر کے روز انجارہ میں بارہ بچوں کی ہلاکت کے علاوہ صوبے حلب کے اسی نام کے دارالحکومت میں بھی تین دیگر بچے اس وقت مارے گئے، جب شامی باغیوں نے شہر کے ایک ایسے حصے پر راکٹ فائر کیے، جو سرکاری دستوں کے کنٹرول میں ہے۔

حلب میں خونریز لڑائی کا آغاز 2012ء کے وسط میں ہوا تھا، اور تب سے یہ شہر متحارب مسلح قوتوں کے کنٹرول میں ہے۔ حلب کے مغربی حصے پر دمشق حکومت کے دستوں کا قبضہ ہے جبکہ شہر کا مشرقی حصہ باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔ حلب میں حکومتی فورسز کی طرف سے شہر کے مشرقی حصے پر باقاعدگی سے فضائی حملے کیے جاتے ہیں جبکہ باغی بھی حکومتی دستوں کے زیر قبضہ مغربی حصے پر بار بار راکٹ فائر کرتے رہتے ہیں۔

روس نے شامی صدر بشار الاسد کی حمایت میں اس ملک میں باغیوں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز گزشتہ برس ستمبر کے آخر میں کیا تھا اور سیریئن آبزرویٹری کے مطابق ان حملوں میں اب تک 2300 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں سے قریب 800 عام شہری تھے۔

روس اپنے خلاف ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ شام میں اس کے فضائی حملوں میں اب تک سینکڑوں شہری بھی مارے جا چکے ہیں۔

شام کا موجودہ خونریز تنازعہ مارچ 2011ء میں حکومت مخالف مظاہروں کے ساتھ شروع ہوا تھا اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شامی خانہ جنگی اب تک دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد انسانوں کی جان لے چکی ہے۔