1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی اتحادی باغی گروہوں کے لیے امریکی عسکری تعاون میں اضافہ

امریکا نے شام میں اپنے اتحادی باغی گروپوں کی مدد کے لیے فضائی حملوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ پینٹا گون نے تصدیق کی ہے کہ شام میں عسکری کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ شام میں فعال امریکا کے اتحادی باغی گروہ ’نیو سیریا فورس‘ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ یوں شام میں گزشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی میں امریکا کی فوجی مداخلت زیادہ ہو جائے گی۔ پینٹا گون نے بتایا ہے کہ نیو سیریا فورس اور اس کے اتحادی باغی گروہوں کی مدد کے لیے نئے حملوں کا سلسلہ جمعے کے دن سے شروع کیا گیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی فضائیہ نے پیر کے دن بھی نئے حملے کیے۔

پینٹا گون کے ترجمان کمانڈر بل اُربان نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’نیو سیریا فورس کو ہم نے تربیت فراہم کی ہے اور ہم ان کے دفاع کے لیے ایکشن بھی لیں گے۔‘‘ جمعے کے دن کی گئی فضائی کارروائی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’یہ پہلی کارروائی تھی۔‘‘ مبصرین کے مطابق شام میں امریکی فضائیہ کی مداخلت طویل بھی ہو سکتی ہے۔

دریں اثناء واشنگٹن انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ امریکی فضائیہ نے شام میں القاعدہ نیٹ ورک سے وابستہ جہادی گروہ النصرہ فرنٹ کو نشانہ بنایا، کیونکہ یہ امریکی تربیت یافتہ شامی باغیوں پر حملے کر رہا تھا۔ صدر اوباما کی انتظامیہ نے شامی صدر بشار الاسد کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی فضائیہ کی کارروائی میں کوئی مداخلت نہ کریں۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ شام میں اعتدال پسند باغیوں کی مدد کی جائے تاکہ وہ جہادی گروہوں اور حکومتی فورسز کے خلاف موثر کارروائی کرنے کے قابل ہو سکیں۔

پینٹا گون کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ صدر اوباما نیو سیریا فورس کے دفاع کے لیے اضافی اقدامات اٹھانے پر بھی تیار ہیں۔ اوباما نے اپنے اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے ساتھ مشورے کے بعد شام میں عسکری کارروائیوں میں وسعت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں امریکا شام میں فعال اپنے اتحادی باغی گروہوں کو عسکری سازوسامان سے بھی لیس کرے گا۔

یہ امر اہم ہے کہ امریکا نے ایسے اعتدال پسند شامی باغیوں کو عسکری تربیت فراہم کی ہے، جو جہادی گروہوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں۔ تاہم ایسے باغیوں کی درست تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے، جنہیں امریکی فوجی ماہرین نے تربیت فراہم کی ہے۔

Symbolbild IS Soldaten

جہادیوں کے خلاف کارروائی میں امریکا اپنی اتحادی باغی گروہوں کی عسکری مدد کر رہا ہے

دوسری طرف روس نے کہا ہے کہ شام میں حکومتی فورسز پر امریکی فضائی حملوں سے انتہا پسند گروہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جنگجوؤں کو فائدہ پہنچے گا۔ ماسکو حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی فورسز پر ایسے حملوں کے نتیجے میں دمشق حکومت مزید عدم استحکام کا شکار ہو گی، جس کی وجہ سے جہادیوں کو فائدہ ہو گا۔ روس کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ واشنگٹن حکومت شام میں امریکی تربیت یافتہ باغیوں کی مدد کے لیے مزید فضائی حملے کرے گی۔ اس رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں النصرہ فرنٹ، دیگر جنگجوؤں اور شامی فورسز کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔