1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شالیت کی رہائی کیلیے بھاری قیمت، ڈوئچے ویلے کا تبصرہ

اسرائیلی فوجی گیلات شالیت کو، جسے پانچ سال پہلے انتہا پسند فلسطینی حماس کے عسکریت پسندوں نے اغوا کر لیا تھا، ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں رہا کر دیا گیا ہے۔ ڈوئچے ویلے کے رائینر زولِش کا لکھا تبصرہ

گیلات شالیت رہائی کے بعد

گیلات شالیت رہائی کے بعد

کیا کسی اسرائیلی فوجی کی آزادی کسی فلسطینی قیدی کی آزادی سے ایک ہزار گنا زیادہ قدر و قیمت کی حامل ہے؟ یہ سوال ہے تو عجیب لیکن ایک اسرائیلی کے بدلے میں ایک ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی رہائی کے پیشِ نظر اس سوال کا ایک ایسا اخلاقی پہلو بھی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ اسرائیل کو اپنی بستیاں بسانے کی پالیسیوں کی وجہ سے بجا طور پر بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے، وہ فلسطینیوں کو ہراساں بھی کر رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اُن کی زمین پر قبضہ بھی کیے ہوئے ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ یہ ریاست اپنے یہودی شہریوں کے تحفظ کو اس قدر اہمیت دیتی ہے، جس کا غالباً انتہا پسند فلسطینی تنطیم حماس جیسے نظریاتی گروپ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔

اسرائیلی نقطہء نظر سے گیلات شالیت کے بدلے میں ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی ایک تقریباً ناقابل برداشت بھاری قیمت ہے۔ اگرچہ ان قیدیوں میں ایسے بھی ہیں، جنہیں مشکوک عدالتی کارروائی کے نتیجے میں سزا ہوئی لیکن ایسے بھی ہیں، جو اسرائیلی شہریوں کے قتل کا تمغہ فخر کے ساتھ اپنے سینے پر سجائیں گے اور جو بہت سے فلسطینیوں کی نظر میں ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں۔

فلسطینیوں کی رہائی پر غزہ میں جشن کا سا سماں

فلسطینیوں کی رہائی پر غزہ میں جشن کا سا سماں

انسانی حوالے سے ترکی، جرمنی اور مصر کی ثالثی میں عمل میں آنے والا قیدیوں کا یہ تبادلہ باعث مسرت ہے لیکن آیا اس سے مشرقِ وُسطیٰ میں امن عمل کے لیے ایک نیا موقع پیدا ہو گا، جیسا کہ کئی روز پہلے جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے اور اب اپنے پہلے انٹرویو میں گیلات شالیت نے کہا ہے، یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔

اِس سے بالکل الَٹ نتیجہ برآمد ہوتا دکھائی دیتا ہے یعنی حماس خود کو ایک فاتح کے طور پر دیکھے گی۔ اُس کی عسکریت پسندانہ حکمتِ عملی مضبوط ہو گی اور اُس کے حوصلے اور بڑھیں گے، اسرائیل ہی نہیں بلکہ صدر محمود عباس اور اُن کے اردگرد جمع اعتدال پسند قوتوں کے مقابلے پر بھی۔ محمود عباس قیدیوں کو بلیک میلنگ کے ذریعے رہا کروانے کا تمغہ اپنے سینے پر نہیں سجا سکتے، وہ تو بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے شانہ بشانہ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی ایک ناکام جدوجہد میں مصروف ہیں۔ وہ یہ ساری کوششیں پُر امن انداز میں کر رہے ہیں اور اُن کا شمار اُن لوگوں میں ہو رہا ہے، جو اِس اسرائیلی فلسطینی سمجھوتے میں گھاٹے میں رہے ہیں۔

اُدھر حماس کو اب اس بات کا علم ہو چکا ہے کہ ایک بھی اسرائیلی فوجی کا اغوا آئندہ بھی ایک ایسا سودا ہو گا، جس میں نفع ہی نفع ہے۔ اب جنگجو واپَس اُس سے جا ملیں گے، اُس کی سیاسی اہمیت میں اضافہ ہو گا اور اُس کی مقبولیت بڑھے گی۔

دوسری طرف قیدیوں کے اس تبادلے کے نتیجے میں اسرائیل کے مؤقف میں بھی کوئی لچک آتی دکھائی نہیں دیتی۔ اُلٹا یہ نظر آ رہا ہے کہ بینجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت غزہ پٹی کا غیر انسانی محاصرہ بھی جاری رکھے گی اور مغربی اُردن میں یہودی بستیاں بسانے کی پالیسیاں بھی۔ ضرورت پڑنے پر اِس کے لیے اُسے ایک زیادہ مضبوط ہو جانے والی حماس کوئی بہانہ بھی فراہم کر ہی دے گی۔

تبصرہ: رائنر زولِش / امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس