1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

شالکے کے خلاف مانچسٹر یونائیٹڈ کی اہم جیت

چیمپیئنز لیگ کے فائنل کے لیے چار ٹیموں کے درمیان دوڑ جاری ہے۔ پہلے سیمی فائنل کی فرسٹ لیگ میں شالکے کو ہرا کر انگلش فٹ بال کلب مانچسٹر یونائیٹڈ نے فائنل تک رسائی کے امکان روشن کر لیے ہیں۔

default

دونوں ٹیمون کے درمیان چیمپیئنز لیگ کے پہلے سیمی فائنل کی فرسٹ لیگ کا مقابلہ منگل کی شام جرمن شہر گیلزن کرشن میں ہوا۔ مانچسٹر یونائیٹڈ نے جرمن کلب شالکے کو اس میچ میں صفر دو سے ہرا دیا۔ مہمان ٹیم نے زبردست کھیل کا مظاہرہ کیا۔ شالکے کے کپتان مانوئیل نوئر دیوار نہ بنتے تو مانچسٹر کا کلب مزید گول کر سکتا تھا۔

اس میچ کے پہلے 20 منٹ میں ہی شالکے کی کمزوریاں واضح ہو گئی تھیں۔ مانچسٹر یونائٹیڈ نے آغاز سے ہی پاس دیتے ہوئے شالکے کے کمزور ڈیفنس سے پردہ اٹھا دیا تھا۔ میزبان ٹیم کی جانب سے بہترین دفاع کرنے والے مانوئیل نوئر ہی واحد کھلاڑی تھے۔ انہیں دورِ حاضر میں بہتر گول کیپرز میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے۔

پہلے ہاف میں ہی انگلش کلب مین۔یو نے شالکے کی گول پوسٹ پر چھ حملے کیے، لیکن نوئر کی بنائی ہوئی دیوار توڑنے میں ناکام رہے۔ شالکے کی جوابی کارروائیاں کارگر ثابت نہ ہوئیں۔

نوئر اور تجربہ کار راؤل کو چھوڑ کر شالکے کے دیگر کھلاڑی مؤثر کھیل پیش کرنے میں ناکام رہے۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ وہ گیند حریف ٹیم کے کھلاڑیوں کو دے بیٹھے، جو بالآخر ان کے اپنے گول پوسٹ کے پاس جا پہنچی۔

Champions League Halbfinale Schalke vs Manchester

مانچسٹر یونائیٹڈ کی فائنل تک رسائی کے امکانات روشن ہیں

ہاف ٹائم تک اسکور صفر صفر تھا۔ پھر مانچسٹر یونائٹیڈ کے کوچ سر ایلکس فرگوسن نے حکمت عملی بدلی۔ انہوں نے شالکے کے گول پوسٹ پر بائیں دائیں خطوں سے حملے کرنے کے بجائے، گیند لائن سے آگے بڑھنے کی حکمت عملی اپنائی۔ جب تک شالکے کا کمزور ڈیفنس کچھ سمجھتا، اس وقت تک دو گول ہو چکے تھے۔ پہلا گول 67 ویں منٹ میں گگز نے کیا اور تین منٹ بعد ہی وین رونی نے گول کر دیا۔

سیمی فائنل کی ریٹرن لیگ کے لیے دونوں ٹیموں کا سامنا چار مئی کو مانچسٹر میں ہوگا۔ چیمپیئنز لیگ کا فائنل 28 مئی کو ہو گا۔ شالکے کے لیے فائنل تک رسائی بہت مشکل ہو چکی ہے۔ چیمپئنز لیگ کا دوسرا سیمی فائنل بارسلونا اور ریئل میڈرڈ کے درمیان ہوگا۔

رپورٹ : ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM