1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

شالکے چیمپیئنز لیگ کے سیمی فائنل میں پہنچ گئی

جرمن فٹ بال کلب شالکے نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیمپیئنز لیگ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ اسے یہ کامیابی بدھ کے میچ میں انٹرمیلان کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے ہرا کر حاصل ہوئی۔

default

ریئل میڈرڈ بھی ٹوٹین ہام کو ہرا کر سیمی فائنل میں پہنچ گیا ہے۔ ٹوٹین ہام کی ٹیم بدھ کے اس میچ میں کوئی گول نہ کر سکی جبکہ میڈرڈ کی ٹیم نے ایک گول کر کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے۔

اب چیمپیئنز لیگ کے ٹائٹل کی دوڑ کے لیے آخری چار ٹیموں کا حتمی فیصلہ ہو گیا ہے۔ مانچسٹر یونائیٹڈ اور بارسلونا نے منگل کو ہوئے مقابلوں میں جیت سے ہی سیمی فائنل میں جگہ بنا لی تھی۔

مانچسٹر یونائٹیڈ نے اپنی روایتی حریف ٹیم چیلسی کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے ہرایا تھا جبکہ بارسلونا نے شاختار کو مات دی تھی۔

سیمی فائنل مقابلوں میں شالکے کو مانچسٹر یونائٹیڈ جبکہ ریئل میڈرڈ کو بارسلونا کا سامنا کرنا ہوگا۔

شالکے کے اسٹرائیکر راؤل نے کہا ہے کہ ان کا کلب چیمپیئنز لیگ کا ٹائٹل جیت سکتا ہے۔ انہوں نے بدھ کے میچ کے بعد کہا، ’یہ بہت خاص موقع ہے۔ ہماری تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ہم اس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک پہنچے ہیں۔’

خیال رہے کہ تینتیس سالہ راؤل رئیل میڈرڈ کی طرف سے کھیلتے ہوئے چیمپیئنز لیگ کے فاتح رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’فٹ بال میں کچھ بھی ناممکن نہیں، آئندہ میچ مانچسٹر یونائیٹڈ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، ہم فائنل کھیلنے کا خواب کیوں نہیں دیکھ سکتے؟’

Fussball Champions League Real Madrid gegen Tottenham Hotspur

ریئل میڈرڈ سیمی فائنل میں بارسلونا کا سامنا کرے گی

انہوں نے اپنے کلب شالکے کے ساتھ ساتھ رئیل میڈرڈ کے فائنل تک پہنچنے کی امید بھی ظاہر کی ہے تاکہ ان دونوں ٹیموں کی ٹکر ہو سکے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس خواہش کے باوجود اس وقت ان کی توجہ سیمی فائنل پر ہے۔

اُدھر شالکے کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنے والی ٹیم انٹرمیلان کے کوچ لیونارڈونے کہا ہے کہ شالکے جیت کا حق رکھتی تھی۔ انہوں نے کہا، ’وہ اچھی ٹیم ثابت ہوئی ہے جبکہ ہم تھکے ہوئے تھے۔ ہم لیگ میں بہت کھیل چکے ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ سیمی فائنل میں شالکے مانچسٹر یونائیٹڈ کو ہرا سکتی ہے تاہم اس کا انحصار اس دن کے حالات پر ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس