1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

’شارک مچھلیوں کے علاقے میں انسان‘، سرفر بال بال بچ گیا

آسٹریلیا کی سمندری حدود میں سرفنگ کرنے والا ایک شخص آج پیر کو اس وقت بال بال بچ گیا جب ایک شارک نے اس پر حملہ کر دیا۔ اس شخص کو ایک ٹانگ پر معمولی خراشیں آئیں۔

default

سڈنی سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق سمندری لہروں پر سرفنگ کرنے والے واٹر سپورٹس کے دلدادہ اس آسٹریلوی شہری کا نام اسٹیفن کنگ بتایا گیا ہے اور اس کی عمر 51 برس ہے۔ خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پیر کے روز سورج نکلنے سے پہلے اسٹیفن کنگ نیو ساؤتھ ویلز کے علاقے میں آسٹریلیا کے شمالی ساحلوں پر Yamba کے قریب ایک بڑی سمندری لہر پر سرفنگ کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک شارک مچھلی نے اس پر حملہ کر دیا۔

Flash-Galerie Weiße Tiere Weißer Hai

اسٹیفن کنگ نے بعد ازاں صحافیوں کو بتایا کہ سرفنگ کے دوران جس شارک مچھلی نے اس پر حملہ کیا، وہ اپنے بڑے بڑے دانتوں سے اس کے سرفنگ بورڈ کا ایک حصہ کاٹ لینے میں تو کامیاب ہو گئی تاہم خود یہ آسٹریلوی شہری اس کا لقمہ بننے سے اتفاقیہ طور پر محفوظ رہا۔

اس واقعے کے دوران اسٹیفن کنگ کی ایک ‌ٹانک پر معمولی خراشیں آئیں اور اپنے کٹے ہوئے سرفنگ بورڈ کے ساتھ وہ تیر کر واپس ساحل تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔ اس sea-surfer نے اے ایف پی کو بتایا، ’جب شارک نے مجھ پر حملہ کیا تو اس کے اچھل کر میری طرف آنے کا پانی پر اثر اتنا زیادہ تھا کہ جیسے کسی نے مجھے پانی سے نکال کر ہوا میں کافی اونچائی تک اچھال دیا ہو۔‘

NO FLASH Weißer Hai Pazifischer Ozean

اسٹیفن کنگ نے اس واقعے کے بعد آسٹریلوی نشریاتی ادارے 'چینل نائن نیوز‘ کو بتایا، ’میں پانی کی ایک بہت بڑی لہر پر سرفنگ کے لیے جمپ کر رہا تھا کہ مجھے اپنے پہلو میں جیسے ایک دھماکے کی سی آواز سنائی دی۔ میرا خیال ہے کہ میں اس وقت دنیا کا وہ خوش قسمت ترین انسان ہوں جو اس وقت زندہ ہے اور اپنی دونوں ٹانگوں پر چل سکتا ہے۔‘

BdT Sieben Meter langer Walhai auf Malaysia

اس واقعے کے بعد نیو ساؤتھ ویلز کے صنعتوں کے محکمے کے ایک ترجمان وک پیڈیمورز نے کہا کہ اس علاقے میں شارک مچھلیوں کے حملے زیادہ تر موسم گرما کے شروع میں دیکھنے میں آتے ہیں۔ وک پیڈیمورز نے کہا، ’ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ یہ علاقہ شارک مچھلیوں کا علاقہ ہے اور اس سمندری علاقے میں دراصل ہم انسانوں کی حیثیت مہمانوں کی سی ہے نہ کہ ان مچھلیوں کی‘۔

آسٹریلیا کی سمندری حدود میں شارک مچھلیوں کے حملے معمول کی بات ہیں۔ لیکن ان میں سے بہت کم حملے انسانی ہلاکتوں کا سبب بنتے ہیں۔ آسٹریلیا میں جون سن 2009 تک اس سے پہلے کے 20 سال کے عرصے میں شارک مچھلیوں کے حملوں میں کل 24 انسانی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران آسٹریلیا کے مغربی حصے میں شارک مچھلیوں کے حملوں میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔ وہاں پچھلے تین ماہ کے دوران ایسے حملوں میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM