1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شارلی ایبدو حملے کا ایک سال: ایک خصوصی اشاعت کے ساتھ

فرانس کے ایک طنز نگار جریدے شارلی ایبدو پر 12 افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے دہشت گردانہ حملوں کا ایک سال مکمل ہونے پر آج ملک بھر میں تقاریب کا انعقاد ہو رہا ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ پیرس میں فرانس کی انسداد دہشت گردی سکیورٹی فورسز کے ہیڈ کوارٹرز میں ایک اجتماع سے خطاب کرنے والے ہیں۔ اس موقع پر فرانس کے خونریز ترین سال یعنی 2015ء میں شارلی ایبدو کے دفتر پر دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں پوری فرانسیسی قوم کو پہنچنے والے صدمے کے سائے میں بات چیت کی جائے گی۔

سات جنوری 2015ء کو شارلی ایبدو کے دفتر پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ دہشت گردانہ حملوں کا یہ سلسلہ شارلی ایبدو سے شروع ہوا تھا تاہم گزشتہ سال سلسلہ وار قتل و غارت گری کی انتہا دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی طرف سے پیرس میں ہونے والے حملوں پر ہوئی، جن میں 130 جانیں ضائع ہوئی تھیں۔

Frankreich Charlie Hebdo Pariser Kiosk

پیرس کے اخبار فروش کھوکوں میں ہر طرف شارلی ایبدو کا تازہ ترین شمارہ نظر آ رہا ہے

فرانسیسی صدر کی طرف سے منظم جرائم اور دہشت گردی کے انسداد کے لیے قوانین و ضوابط میں سختی کے اعلان کی توقع کی جا رہی ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد مسلح پولیس اور اُس کی سرگرمیوں اور اختیارات کے لیے زیادہ لچکدار قوانین کا نفاذ ہو گا، جن کے تحت پولیس فورسز کو مزید ’اسٹاپ اینڈ سرچ‘ یا مشتبہ افراد کو کسی بھی وقت کہیں بھی روک کر تلاشی یا چھان بین کی اجازت ہو گی۔

فرانس کے طنز نگار جریدے شارلی ایبدو نے اس اثناء میں اپنا صحافتی کام جاری رکھا ہوا ہے اور اس سے منسلک صحافی اور کارٹون نگار خود پر سنسر شپ سے انکار کرتے ہوئے ایک انتہائی خفیہ مقام پر ایک انتہائی محفوظ دفتر میں بیٹھ کر اپنا کام انجام دے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بُدھ کو شارلی ایبدو نے ایک مخصوص انداز کا اشتعال انگیز خصوصی ایڈیشن شائع کیا، جس کے سر ورق پر ایک ’کلاشنکوف بردار‘ خُدا کا کارٹون بنایا گیا ہے۔

Frankreich Erster Jahrestag Charlie Hebdo Anschläge Je suis Charlie

فرانس بھر میں بڑے بڑے احتجاجی اجتماعات کا انعقاد ہو رہا ہے

اس کارٹون کے نیچے تحریر کیا گیا ہے،’’ایک سال بعد بھی قاتل باہر ہی ہے‘‘۔ اس خصوصی اشاعت کے ایڈیٹر لاراں سوریس ہیں، جو 2015ء میں شارلی ایبدو پر ہونے والے حملے میں بُری طرح زخمی ہوئے تھے۔ لاراں ’قرآنی تعلیمات کے جنون‘ کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اس ایڈیٹوریل میں دیگر مذاہب کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور اس پر کیتھولک مسیحیوں کے لیے مرکز کی حیثیت رکھنے والے ویٹیکن کی طرف سے بھی مذمت سامنے آئی ہے۔ شارلی ایبدو کم و بیش ہر عقیدے اور مذہب کا تمسخر اُڑاتا ہے، اس لیے محض اسلام ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی یہ امید کر رہے تھے کہ شارلی ایبدو 2015ء کے دہشت گردانہ حملے کے بعد بند ہو جائے گا۔

شارلی ایبدو کے تازہ ترین خصوصی ایڈیشن کی ایک ملین کاپیاں محض فرانس کے اندر فروخت کے لیے دستیاب ہیں جبکہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں یہ کاپیاں بیرون ملک بھیجی گئی ہیں۔ اس خصوصی اشاعت میں مذکورہ ’اشتعال انگیز‘ کارٹون کے علاوہ شارلی ایبدو پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے متاثرین کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا ہے اور اس میں اس طنز نگار جریدے کے اُن تمام پانچ کارٹون نگاروں کے کارٹونز کے مجموعے بھی شائع کیے گئے ہیں جو اُن حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

DW.COM