1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شادی کے صرف تین دن بعد دلہن کا قتل، دلہے کا اعتراف جرم

پاکستانی شہر لاہور میں ایک نوجوان دلہے کو شادی کے صرف تین دن بعد اپنی دلہن کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مبینہ قاتل ایک دوسری خاتون میں دلچسپی رکھتا تھا اور اس نے مقتولہ سے شادی خاندانی دباؤ کے باعث کی تھی۔

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت اور پاکستان کے مشرقی شہر لاہور سے اتوار انیس مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق مقتولہ دلہن مبینہ قاتل کی کزن تھی، جس کے ساتھ وہ شادی کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن اس نے ایسا اپنے اہل خانہ کے دباؤ کی وجہ سے کیا تھا۔

پولیس افسر ذوالفقار بٹ کے مطابق ملزم کا نام عمر تنویر ہے، جس کی اس کی کزن حرا سے شادی ابھی چند روز قبل ہی ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق عمر تنویر ایک ایسی خاتون سے شادی کرنا چاہتا تھا، جو دبئی میں رہتی تھی۔

Symbolbild Gefängnis Haft Gitterstäbe Mann Verbrechen (Fotolia/rudall30)

پولیس اہلکار ذوالفقار بٹ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو اتوار کے روز بتایا کہ مبینہ قاتل عمر تنویر کو باقاعدہ طور پر قتل کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ملزم عمر کی نوبیاہتا دلہن شادی کے صرف تین روز بعد جمعرات سولہ مارچ کو سسرال میں اپنے کمرے میں مردہ پائی گئی تھی۔

دلہن کے والدین کو جب اس کی ’دوران نیند اچانک موت‘ کی اطلاع دی گئی تو اس کے والد نے دیکھا کہ اس کی مقتولہ بیٹی کے چہرے اور گردن پر نیل پڑے ہوئے تھے۔ اس پر پولیس کو اطلاع کر دی گئی، جس نے عمر تنویر سے ابتدائی پوچھ گچھ کی تو اس نے شروع میں انکار کر دیا تھا کہ اس نے اپنی بیوی کو قتل کیا ہے۔

تاہم پولیس نے اتوار کے روز تصدیق کرتے ہوئے بتایا، ’’ملزم کو عارضی طور پر تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے تین دن بعد اس نے باقاعدہ طور پر اعتراف جرم کر لیا کہ اس نے اپنی بیوی کو ایک تکیے کی مدد سے اس طرح قتل کیا کہ وہ سانس لینے کے لیے تڑپتی رہی تھی۔‘‘ اس پر پولیس نے ملزم کے خلاف قتل عمد کے الزام میں مقدمہ درج کر کے اسے باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا ہے۔