1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شادی کی رسومات میں ’بے حیائی‘ کی حوصلہ شکنی

چیچنیہ میں حکام کی طرف سے نوجوانوں کی ’روحانی اور اخلاقی تربیت‘ کے لیے قدامت پسند نظریات کے حامل رسوم و رواج پر زور دیتے ہوئے شادی کی چند جدید رسومات پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

جمہوریہ چیچنیہ کے حکام کے لیے شادی کی تقریب باوقار اور مناسب اُسی صورت میں ہو سکتی ہے، جب اُس میں بندوق کی فائرنگ نہ ہو، ڈانس فلور پر مرد اور خواتین ایک دوسرے سے فاصلے پر ہوں اور دُلہن کو کیک کاٹنے نہ دیا جائے۔

یہ وہ سفارشات ہیں جو گزشتہ ماہ چچنیہ کے دارالحکومت گروزنی کے ثقافتی امور کے دفتر کی طرف سے پیش کی گئیں۔ وجہ یہی کہی گئی کے یہ اقدام نوجوانوں کی ’اخلاقی تربیت‘ کے لیے ضروری ہیں تاہم حکام کو اس ضمن میں قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ ان سفارشات کو تب بھی اہمیت اس لیے حاصل ہے کے جمہوریہ چچنیہ کے سربراہ اور سابق صدر کے صاحبزادے رمضان قدیروف بہت تیزی سے اپنے معاشرے کو قدامت پسند اسلامی روایات کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Tradition Tschetschenien Brauchtum

چیچنیہ میں شادی کی تقریب نہایت رنگین ہوا کرتی ہے

اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ چچنیہ میں گزشتہ چند سالوں کے دوران نوجوان نسل تیزی سے لبرل یا آزاد خیال ہوتی دکھائی دی ہے۔ خاص طور سے اپنی شادیوں کے ضمن میں، ’’چچنیہ کے نوجوانوں نے قدامت پسند روایات کو نظر انداز کرتے ہوئے جدید طریقہ زندگی اپنانا شروع کر دیا ہے۔‘‘ یہ کہنا ہے گروزنی کے ثقافتی دفتر کے ایک اہلکار کا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’میں غیر اخلاقی رویہ نہیں دیکھنا چاہتا، میں ایک ڈریس کوُڈ دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

چیچنیہ میں رستورانوں اور شادی ہال کے منتظمین کو نئے ضوابط کو نافذ کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ وہ اپنے ہاں شادی کی تقاریب کا انتظام کروانے والے شہریوں سے تقریب سے پہلے ہی اس بارے میں بات چیت کر لیا کریں گے کہ شادی کی تقریب میں کس طرح کی رسوم شامل ہوں گی اور میزبان اور مہمانوں کا رویہ کیسا ہوگا۔ اگر شادی کی تقریب کے دوران ڈانس فلور پر مہمانوں نے کوئی ’ناشائستہ حرکت‘ کی یا تہذیب و وقار کا پاس نہ رکھا تو شادی ہال یا گارڈن کے منتظمین اُس وقت تک موسیقی بند رکھیں گے جب تک ڈانس فلور پر ہر کوئی باوقار انداز اختیار نہیں کرے گا۔ یہ کہنا تھا ایک مقامی ’ویڈنگ پلاننگ ایجنسی‘ کے مالک زبیر بیراکوف کا۔

Tradition Tschetschenien Brauchtum

چیچنیہ کا معاشرہ قدامت پسند روایات پر مشتمل ہے

دراصل قفقازی ثقافت میں روایتی طور پر شادی کے فریقین کے تمام لوگ بندوق سے فائر کر کے شادی کی تقریب کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ تاہم اب اسے معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔ خاص طور پر روسی دارالحکومت میں جیسے جیسے قفقازی باشندوں کی آمد بڑھتی گئی ویسے ویسے زیادہ سے زیادہ اس قسم کی رسموں کے خلاف مقامی باشندوں میں ناگواری کا احساس بڑھتا گیا اور اب دور حاضر میں شادی کے موقع پر فائرنگ کے رواج کو فرسودہ سمجھا جانے لگا۔

چیچن شادیوں میں روایتی طور پر دولہا کی طرف سے رقم ادا کی جاتی ہے اور دولہا کے خاندان والے ہی اس میں شرکت کرتے ہیں۔ دولہے کے دوست اور خاندان کے اراکین دُلہن کے والدین کے گھر سے دلہن کو لے کر تقریب میں ایک خاص طے شُدہ جگہ پر اُسے بٹھا دیتے ہیں اور اُسے رقص یا دیگر تقریبات میں حصہ نہیں لینے دیا جاتا۔ روایت کے مطابق، دولہن اور دولہا کی ملاقات تقریب ختم ہونے کے بعد ہوتی ہے۔

DW.COM