1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

شادی کی تقریبات: مختلف رسوم اور ان کے پس منظر

چاول اور پھول نچھاور کرنا، اکٹھے کیک کاٹنا اور دلہن کو اٹھا کر دہلیز پار کرنا، بہت سے جوڑے اپنی شادی کے وقت ان قدیم رسومات پر عمل کرتے ہیں اور انہیں بہت اہم بھی سمجھتے ہیں۔

default

جنوبی کوریا میں ایک اجتماعی شادی

لیکن سوال یہ ہے کہ ان رسومات کا آغاز کیسے ہوا؟ شادی سے متعلق اکثر روایات کی ابتداء صدیوں پرانی ہے۔ ان میں سے چند ایک کی اپنی ایک خاص معنویت بھی ہے۔ مثلاﹰ کسی شادی کی تقریب میں شریک جو لڑکی دلہن کے پھینکے ہوئےگلدستے کو ہوا ہی میں پکڑ لیتی ہے، اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگلی شادی اسی کی ہو گی۔

جرمن دارالحکومت برلن میں شادی کی تقریبات کی پیشہ ورانہ منصوبہ بندی کرنے والی ایک خاتون الیکساندرا ڈئیونیسیو کہتی ہیں کہ آج اس بات کا کس کو علم ہو گا کہ کلیسا میں شادی کے وقت پادری کے سامنے کھڑے ہوئے دلہن ہمیشہ دلہا کے ساتھ لیکن ایک مخصوص جگہ پر ہی کیوں کھڑی ہوتی ہے؟

الیکساندرا ڈئیونیسیو کہتی ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں جب مرد اپنے پاس ہمیشہ ایک تلوار بھی رکھتے تھے، تو دلہن شادی کے وقت ایک خاص جگہ پر اس لیے کھڑی ہوتی تھی کہ علامتی طور پر یہ بھی ظاہر ہو کہ دولہا اپنی تلوار کےساتھ اپنی دلہن کا ہر وقت دفاع کر سکتا ہے۔

Spezialbild: Monsoon Wedding, Bollywood Film aus Indien

جنوبی ایشیا میں شادی کی کئی روزہ تقریبات کا ایک خاص ثقافتی رنگ ہوتا ہے

الیکساندرا کہتی ہیں کہ آج کے دولہا جنگجو تو نہیں ہوتے اور وہ اپنے ساتھ تلواریں بھی نہیں لیے ہوئے ہوتے تاہم پھر بھی کلیسائی شادی کے وقت دلہن کے دلہا کے برابر کھڑے ہونے کی جگہ میں صدیوں سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

برلن کی میرج پلانر الیکساندرا ڈئیونیسیو کہتی ہیں کہ کئی ملکوں میں یہ بھی ایک بڑی پرانی عوامی کہاوت ہے کہ دلہا اگر شادی سے پہلے دلہن کو لباس عروسی میں دیکھ لے تو شادی کی تقریب سے پہلے ہی اس کو کسی نہ کسی بدقسمتی یا ناخوشگوار واقعے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کلیساؤں میں شادی کے وقت دلہن کو وہاں لانے والا اکثر اس کا والد ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت یوں کی جاتی ہے کہ صدیوں پہلے لڑکی کو خاندان کی ملکیت سمجھا جاتا تھا اور اس لیے شادی کے وقت یہ ملکیت لڑکی کے خاندان سے دولہا کو منتقل ہو جاتی تھی۔ آج تاہم یہ روایت اس بات کی علامت ہے کہ دلہن کے اپنے اہل خانہ کے ساتھ جذباتی اور خاندانی رشتے کتنے مضبوط ہیں۔

شادی کی تقریب میں جب دلہن یا مہمانوں کی طرف سے ہوا میں چاول پھینکے جاتے ہیں یا پھول پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں، تو اس رسم کا مطلب یہ دعا اور خواہش ہوتی ہے کہ اس نو بیاہتا جوڑے کو کافی زیادہ اولاد نصیب ہو اور وہ ایک خاندان کے طور پر مسلسل پھلتا پھولتا رہے۔

Bildgalerie Prinz Charles und Camilla heiraten 15

برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کی شہزادی ڈیانا سے شادی کی ایک یادگار تصویر

شادی کے موضوع پر ایک کتاب کی مصنفہ برگٹ ایڈم کہتی ہیں کہ شادی کے موقع پر پھولوں کو خوش قسمتی اور مستقبل میں اولاد کی پیدائش کی دعا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شادی کے وقت جب میاں بیوی مل کر کیک کاٹتے ہیں، تو اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر پایا جانے والا ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ مل کر چھری پکڑتے ہوئے دلہا اور دلہن میں سے جس کا ہاتھ اوپر ہو گا، وہی مستقبل کے مشترکہ رشتے میں زیادہ فیصلہ کن اور قائدانہ کردار کا حامل ہو گا۔

چند مغربی ملکوں میں یہ دلچسپ روایت بھی ہے کہ دلہن اپنے دائیں جوتے میں ایک پینس یا سینٹ کا سکہ اس لیے رکھ لیتی ہے کہ شادی کے بعد ساری عمر اس جوڑے کو خوشی اور خوشحالی میسر ہو۔ شادی کے موضوع پر کتاب کی مصنفہ برگٹ ایڈم کہتی ہیں کہ اکثر شادیوں کے موقع پر رسم و رواج کو بہت اہمیت دی جاتی ہے لیکن انہیں ضرورت سے زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے۔ برگٹ ایڈم کے بقول، ’’شادی بہرحال شادی ہوتی ہے اور کوئی ایسی دوپہر یا شام نہیں جہاں سارے لوگ مل کر درجنوں کھیل کھیلتے رہیں۔‘‘

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس