1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شادی سے انکار پر پاکستانی لڑکی کو زندہ جلا دیا گیا

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے نواح میں مری کے قریب ایک گاؤں میں ایک انیس سالہ لڑکی کو اس لیے تشدد کرنے کے بعد زندہ جلا دیا گیا کہ اس نے اپنے لیے آنے والا ایک رشتہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

Symbolbild Ehrenmorde Gewalt gegen Frauen

پاکستانی معاشرے کو حقوق نسواں کے معاملے میں ابھی ایک طویل سفر کرنا ہے

اسلام آباد سے بدھ یکم جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق پولیس اور مقتولہ کے رشے داروں نے بتایا کہ اس نوجوان لڑکی نے، جو ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھاتی بھی رہی تھی، اس اسکول کے پرنسپل کے بیٹے سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

مقتولہ کا نام ماریہ صداقت بتایا گیا ہے، جس پر اسلام آباد کے قریب گرمائی تعطیلاتی مقام مری کے نواح میں اپر دیوال نامی گاؤں میں کئی افراد کے ایک گروہ نے پیر تیس مئی کے روز حملہ کر دیا تھا۔ ماریہ کے چچا عبدالباسط نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ان افراد نے ماریہ پر بری طرح تشدد کرنے کے بعد اسے آگ لگا دی تھی۔ ہم اسے شدید زخمی حالت میں اسلام آباد کے ایک ہسپتال لے آئے تھے، جہاں آج بدھ کے روز وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی۔‘‘

عبدالباسط نے وفاقی دارالحکومت میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یا PIMS ہسپتال کے باہر اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ماریہ پر حملہ ایک ایسے پرائیویٹ اسکول کے پرنسپل اور اس کے ساتھیوں نے کیا، جہاں وہ ماضی میں پڑھاتی رہی تھی۔ اس حملے کی وجہ یہ بنی کہ اس بچی نے اسکول کے پرنسپل کے بیٹے سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔‘‘

ماریہ اس حملے میں تشدد کے نتیجے میں شدید زخمی بھی ہو گئی تھی اور حملہ آوروں کی طرف سے اسے زندہ جلا دیے جانے کی کوشش کے دوران اس کا جسم بری طرح جل بھی گیا تھا۔ اس لڑکی کے انتقال کے بعد اسلام آباد کے پِمز ہسپتال کے باہر جمع اس کے رشتے داروں نے آج وہاں آہ و پکار کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا اور اس دوران پولیس نے ماریہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے شہر کے ایک دوسرے ہسپتال میں منتقل کر دیا۔

Pakistan Symbolbild Protest Frau Recht Gewalt Ehe Scheidung

پاکستان میں بہت سی عورتوں اور لڑکیوں کو ہر سال ان کے رشتے دار عزت کے نام پر قتل کر دیتے ہیں

مقتولہ کے چچا عبدالباسط کے مطابق اسکول کا پرنسپل اور مبینہ مرکزی ملزم اپنے جس بیٹے کی شادی ماریہ سے کرانے کا خواہش مند تھا، وہ مقتولہ سے دگنی عمر کا ہے اور پہلے سے ایک شادی کے بعد طلاق یافتہ بھی۔ انہوں نے کہا، ’’ماریہ نے نہ صرف رشتے سے انکار کر دیا تھا بلکہ اس اسکول میں ملازمت بھی چھوڑ دی تھی۔ لیکن وہ پھر بھی اسے بار بار تنگ کرتے رہے اور بالآخر اس پر حملہ کر دیا۔‘‘

پولیس کے مطابق مقتولہ نے اپنی موت سے قبل ہسپتال میں پولیس کو ایک بیان بھی دیا تھا، جس میں اس نے حملہ آوروں کے طور پر اسکول کے پرنسپل اور چار دیگر ملزمان کے واضح طور پر نام بتائے تھے۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ قتل کے اس واقعے کی چھان بین کی نگرانی کرنے والے پولیس افسر مظہر اقبال کے مطابق، ’’کم از کم ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ باقی چار کی تلاش جاری ہے۔‘‘

پِمز ہسپتال کی ایک ڈاکٹر کے بقول ماریہ صداقت کی موت زندہ جلا دیے جانے کی مجرمانہ کوشش کے دوران آنے والے شدید زخموں کی وجہ سے ہوئی۔ ڈاکٹر عائشہ احسانی نے بتایا، ’’اس کی حالت کچھ بہتر ہو رہی تھی۔ لیکن وہ اس لیے جانبر نہ ہو سکی کہ اس کے جسم کا زیادہ تر حصہ بری طرح جل چکا تھا۔‘‘

اے ایف پی نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان میں، جہاں بہت سی عورتوں اور لڑکیوں کو ہر سال ان کے رشتے دار عزت کے نام پر قتل کر دیتے ہیں، ایک ماہ سے کچھ ہی زیادہ عرصے کے دوران یہ دوسرا ایسا واقعہ ہے کہ شادی کے مسئلے پر ایک نوجوان لڑکی کو قتل کر دیا گیا۔

انتیس اپریل کو بھی شمال مغربی پاکستان میں ایک ایسی لڑکی کو، جس کی عمر 16 اور 18 برس کے درمیان تھی، ایک مقامی دیہی جرگے کے حکم پر پہلے کوئی نشہ آور شے پلا کر مدہوش کر دیا گیا تھا، پھر اس کا گلا دبا کر اسے ہلاک کر دیا گیا، جس کے بعد اس کی لاش بھی جلا دی گئی تھی۔ اس لڑکی نے مبینہ طور پر اپنی ایک دوست کی مدد کی تھی تا کہ وہ اپنے گھر سے فرار ہو کر اپنی پسند کی شادی کر سکے۔

DW.COM