1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

’شاداب خان کو بکّیوں سے بچاؤ‘

محمد عامر نے اپنی عمدہ بولنگ کے باعث سن دو ہزار نو میں جب بین الاقوامی کرکٹ میں اپنا لوہا منوایا تھا تو وہ صرف سترہ برس کے تھے۔ شاداب خان کی حالیہ غیر معمولی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ان کا موازنہ عامر سے کیا جا رہا ہے۔

میانوالی سے تعلق رکھنے والے ہونہار اٹھارہ سالہ بولر شاداب خان کی بین الاقوامی کرکٹ میں آمد پر ناقدین کرکٹ انہیں ستائش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم میں شمولیت اختیار کی ہے، جب ایک مرتبہ پھر پاکستانی کرکٹ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی زد میں ہے۔

محمد عرفان پر ایک سالہ پابندی کے علاوہ شرجیل خان اور خالد لطیف پر عائد کیے جانے والے الزامات ماضی کی اُس کہانی کو دہرا رہے ہیں، جن کی زد میں کبھی سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر بھی آئے تھے۔ محمد عامر بھی اس وقت اٹھارہ برس تھے، جب سن دو ہزار دس میں لارڈز ٹیسٹ کرکٹ کے کھیل پر ایک دھبہ بن گیا تھا۔

’پاکستان کرکٹ‘ فکسنگ، ڈوپنگ اوراستعفوں کے بھنور میں

پاکستانی قوم سے معافی مانگتا ہوں، محمد عرفان

سپاٹ فکسنگ سکینڈل، پاکستان میں ہلچل برقرار

تب پاکستانی کرکٹ ٹیم کو سہارا دینے والے مصباح الحق نے نہ صرف پاکستانی کرکٹ کو ایک نیا باب فراہم کیا تھا بلکہ ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پاکستان کی ٹیم کو پہلے نمبر پر بھی لیے گئے تھے۔ اب مصباح الحق کا کرکٹ کیریئر ختم ہونے کے قریب ہے تو ایک پھر سے پاکستانی کرکٹ کھلاڑیوں میں اسپاٹ فکسنگ کا معاملہ انتہائی حساس دکھائی دے رہا ہے۔

گزشتہ سات برسوں سے معلوم ہو رہا تھا کہ پاکستان کے کرکٹ بورڈ اور کرکٹ کے عالمی ادارے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی کوششیں کے سبب پاکستانی کھلاڑیوں میں غیر قانونی جوئے بازی کے حوالے سے ایک نیا شعور پیدا ہوا ہے۔

Pakistan Cricket Misbah Ul Haq (DW/T. Saeed)

امکان ہے کہ ویسٹ انڈیز سیریز کے بعد مصباح الحق ریٹائرمنٹ لے لیں گے

تاہم پاکستان سپر لیگ میں سامنے آنے والے نئے اسکینڈل نے نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ اب لوگ یہ بھی کہہ رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے والے نوجوان کھلاڑیوں کو کرکٹ میں انسداد بدعنوانی سے متعلق نئے سرے سے آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شاداب خان کی اعلیٰ کارکردگی کی تعریف تو جاری ہے لیکن ساتھ میں اب لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اس ٹین ایجر کو بکّیوں سے بچانے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ایسے نوعمر جوہر جب عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کرتے ہیں تو انہیں کئی مسائل کا سامنا بھی ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی تربیت متعلقہ حکام کا ہی کام ہوتا ہے۔

محمد عامر نے سن دو ہزار نو میں سری لنکا کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں ہی چھ وکٹیں لے کر اپنے ٹیلنٹ کو منوا لیا تھا۔ ایک سال کے اندر ہی ناقدین ان کی کارکردگی سے اتنے متاثر ہوئے تھے کہ ان مقابلہ وسیم اکرم جیسے کرشمہ ساز بولر سے کیا جانے لگا تھا۔ تاہم قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

اہم سوال یہ ہے کہ مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کو ایک اچھے لیڈر کی کمی محسوس ہو گی لیکن اب اسپاٹ فکسنگ کے اس نئے اسکینڈل کے باعث کچھ دیگر شبہات نے بھی جنم لے لیا ہے۔

Pakistan Cricket Muhammad Amir (AP)

محمد عامر اسپاٹ فکسنگ میں سزا کاٹنے کے بعد قومی ٹیم کا حصہ بن چکے ہیں

ماضی کی کہانی کو دیکھتے ہوئے پاکستانی کرکٹ بورڈ کو اب شاداب خان، حسن علی اور رومان رئیس جیسے نئے نوجوان کھلاڑیوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نو عمری اور کم تجربہ کاری کے باعث ایسے کھلاڑی کسی مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔

کہتے ہیں مختلف کھیل تخلیق اسی لیے ہوئے تھے کہ لوگ شرطیں لگا سکیں لیکن قانونی اور غیرقانونی سٹے بازی میں فرق کرنا انتہائی ضروری ہے۔ بالخصوص کھلاڑیوں کو جوئے بازی کی ان دونوں اقسام سے دور ہی رہنا چاہیے۔ اور اگر پھر بھی کوئی کھلاڑی اس جرم کو مرتکب ہو تو اس پر تاحیات پابندی عائد کر دی جانا چاہیے۔ بعد میں معافی مانگنے کے بجائے بہتر ہے کہ پہلے ہی خود کو سدھار لیا جائے۔

DW.COM