1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سی ڈی یو کی انتخابی مہم، انگیلا میرکل کا خطاب

جرمن شہر ڈوسلڈوف میں اتوار کے روزجرمن چانسلر انگیلا میرکل نےستائیس ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں اپنی انتخابی مہم کے آخری مرحلے کا آغاز کیا۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنی انتخابی مہم کے آخری مرحلے کا آغاز کیا

کرسچئین ڈیموکریٹک پارٹی سی ڈی یو کی سربراہ میرکل نے پارٹی کے تقریبا 9,000 ممبران سے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ فری ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ہی اتحاد بنائیں گے۔ انگیلا میرکل نے موجودہ مخلوط حکومت میں شامل اور آئندہ انتخابات میں اپنی حریف سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو براہ راست تنقید کا نشانہ نہ بنایا، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اُن تمام افراد سے اختلاف کرتی ہیں،جو اُن کی وسیع تر مخلوط حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کیونکہ تنقید کرنے والے بھی اسی حکومت کاحصہ رہے ہیں۔ میرکل نے کہا کہ تاہم اب نئی حکومت چننے کا وقت آگیا ہے اور جرمنی کو سی ڈی یو اور فری ڈیموکریٹک پارٹی کی مخلوط حکومت کی ضرورت ہے۔

انگیلا میرکل نے کہا کہ گزشتہ دور میں اُن کا ریکارڈ بہت اچھا رہا۔ میرکل نےاپنی حکومت کی کامیابیاں گنواتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران بے روزگاری کے خاتمے کے لئے ایک ملین نئی ملازمتیں پیدا کیں گئیں اور انہوں نے عالمی مالیاتی بحران میں ملکی اقتصادیات کو سہارا دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوبارہ منتخب ہونے کےبعد سی ڈی یو اپنی ہم خیال پارٹی کرسچئین سوشل یونین اور فری ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ملک کو مزید ترقی کی راہوں پر گامزن کریں گی۔

عوامی جائزوں کے مطابق انگیلا میرکل آئندہ پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوتی نظرآ رہی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق سی ڈی یو کو 36 فیصد عوامی حمایت حاصل ہوئی ہے جبکہ اس کی اتحادی فری ڈیموکیٹس نے 15 فیصد حمایت حاصل کی ہے، جس کا مطلب ہے کی دونوں پارٹیوں نے مل کر پچاس فیصد مطلوبہ حمایت حاصل کر لی ہے۔ دوسری طرف تین صوبوں میں ہوئے حالیہ صوبائی انتخابات میں دو صوبوں میں بری کارکردگی کے نتیجے میں ان کے لئے مقابلہ سخت بھی ہو سکتا ہے۔

ناقدین کا خیال ہے کہ میرکل مطلوبہ کامیابی نہ ملنے کی صورت میں دوبارہ سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ اتحاد بنا سکتی ہیں، شاید اسی لئے ڈوسلڈوف میں اپنی تقریرکے دوران انہوں نے موجودہ مخلوط حکومت میں شامل ایس پی ڈی کے کام کی ستائس کی۔ انہوں نے چانسلرکے لئے اپنے سوشل ڈیموکریٹ حریف اور وزیرخارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کو بھی تنقید کا نشانہ نہ بنایا۔ واضح رہے کہ حال ہی میں کئے گئےایک عوامی جائزے کےمطابق انگیلا میرکل کو شٹائن مائر سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ اس سروے میں میرکل کو 57 جبکہ شٹائن مائر کو 28 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

رپورٹ عاطف بلوچ

ادارت عاطف توقیر