1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سی پیک کے ذریعے سات لاکھ پاکستانیوں کو روزگار ملے گا‘

پاکستان میں تعینات چینی نائب سفیرکا کہنا ہے کہ سی پیک منصوبے کے تحت چینی کمپنیوں میں ساٹھ ہزار جبکہ انیس ہزار پاکستانی براہ راست مختلف منصوبوں میں کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے سے کُل سات لاکھ پاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔

گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سی پیک منصوبے سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہوئے چینی نائب سفیر لیان زاؤ نے کہا،’’ اقتصادی راہ داری  میں توانائی کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری سے پاکستان کو گیارہ ہزار میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔‘‘ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا،’’ پاک چین اقتصادی راہ داری منصوبے کے ذریعے ساٹھ ہزار سے زائد پاکستانیوں کو نوکریاں ملی ہیں۔ ماہرین کی رائے میں سن 2030 تک سات لاکھ پاکستانی افراد اقتصادی راہ داری منصوبے کی بدولت روزگار حاصل کریں گے۔‘‘

 چینی نائب سفیر نے مزید کہا کہ گزشتہ نومبر میں ساز و سامان کی پہلی ترسیل کو چین سے گوادر پہنچنے میں دو ہفتے کا عرصہ لگا تھا۔ سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کے بعد اس سے کم وقت میں چین سے کارگو گوادر پہنچ جایا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین تعلیم کے شعبے میں بھی تعاون کر رہے ہیں۔ چین کی سات یونیورسٹیوں میں اردو پڑھائی جاتی ہے جبکہ کئی پاکستانی طلبہ اسکالرشپ پر چین میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

بھارت کی جانب سے اقتصادی راہ داری پر تحفظات کے حوالے سے لیان زاؤ نے کہا، ’’ بھارت کو سی پیک منصوبے پر تحفظات ہیں لیکن سی پیک ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے اس کا سیاسی اور سرحدی تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

واضح رہے کہ سی پیک منصوبے سے متعلق پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان میں ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے جس میں  پاک چین اقتصادی راہ داری منصوبے کا ممکنہ پلان شائع کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق چینی کمپنیاں بڑے پیمانے پر پاکستان کی معیشت میں شامل ہوں گی۔ رپورٹ کے مطابق عام تاثر یہی ہے کہ چین انفراسٹرکچر اور بجلی گھروں میں سرمایہ کاری کرے گا لیکن اس کے برعکس چین ذراعت کے شعبے میں بڑے پیمانے میں کام کرے گا۔ ڈان میں شائع ہونے والے پلان کے مطابق سیاحت کے لیے چین کے لوگوں کو ویزا فری انٹری کی بھی اجازت ہو گی۔ پاکستان کے وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ڈان کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ احسن اقبال کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈان اخبار کو یہ رپورٹ شائع کرنے سے قبل  وزارت برائے منصوبہ بندی و ترقی کا موقف جاننا چاہیے تھا۔ گزشتہ روز لیان زاؤ  نےپلانگ کمیشن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اس حوالے سے جاری احسن اقبال کے بیان کو ری ٹوئیٹ کیا۔

دوسری جانب ڈان کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد کئی افراد نے سی پیک منصوبے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کو حد سے زیادہ رعایت فراہم کر رہا ہے۔ ڈی ڈبلیو اردو نے بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی اسپیکر راحیلہ درانی سے ان کی رائے جاننا چاہی تو انہوں نے کہا،’’ بلوچستان کے زیادہ تر لوگوں کی خواہش ہے کہ یہ راہ داری ان کے علاقے سے بھی جڑے کیوں کہ اس منصوبے سے علاقے میں ترقی ہوگی اورخوش حالی آئے گی۔‘‘ انہوں نے کہا،’’وفاقی حکومت ہمارے ساتھ مل کر مقامی لوگوں کے خدشات دور کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں بڑے بڑے منصوبوں پر کام ہوتا ہے، میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیوں اس منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘

پاک چائنہ اقتصادی کوریڈور کیا ہے؟

چینی سرمایہ کاروں کو ٹیکس چھوٹ کیا پاکستانی معیشت کے لیے نقصان دہ ؟

تجزیہ کار امتیاز گل کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا،’’ماضی میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو اس منصوبے پر کافی تحفظات تھے جنہیں دور کرنے میں چین نے بھی کردار ادا کیا ہے۔‘‘

  لیان زاؤ  نے کہ کہ انہیں ٹوئٹر پر بائیس ہزار سوالات پوچھے گئے اور انہیں پاکستانیوں سے سی پیک منصوبے پر بات چیت کرنا اچھا لگا۔

ویڈیو دیکھیے 01:00

گوادر پورٹ ’ترقی کا زینہ‘

DW.COM

Audios and videos on the topic