1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سی پیک پاور منصوبوں کے اضافی اخراجات، بوجھ صارفین پر

نیشنل الیکڑک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی بنانے والی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ سی پیک کے انیس پاور منصوبوں کی سیکیورٹی پر اٹھنے والے اضافی اخراجات کا بوجھ صارفین پر ڈال دیں۔

Pakistan Stromerzeugung Korruption Ministerpräsident Nandipur Power Project (DGPR)

نیپراکے فیصلے کی وجہ سے سی پیک پاور منصوبے ایک بار پھرتنقید کی زد میں آ گئے ہیں

اس فیصلے کی وجہ سے کئی حلقوں میں نہ صرف سی پیک کے پاور پراجیکٹس پر بحث شروع ہوگئی ہے بلکہ چینی کمپنیوں کو دی جانے والی خصوصی رعایات بھی اب موضوع بحث ہیں۔ انگریزی روزنامہ ڈان کی ایک خبر کے مطابق ان انیس پاور پراجیکٹس کی لاگت 15.56بلین ڈالرز ہے اور اس لاگت کا ایک فیصد صارفین سے وصول کیا جائے گا۔ اخبار کے مطابق نیپرا نے اسٹیک ہولڈرز کی اس بات کو مسترد کر دیا کہ سیکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ کہ صارفین پر یہ اضافی بوجھ نہیں ڈالا جانا چاہیے۔

اس فیصلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے معروف ماہر اقتصادیات ڈاکڑ وقار احمد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’چینی کمپنیوں کا ٹیرف پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور اس کے علاوہ انہیں ریٹ آف ریٹرنز کی بھی گارنٹی دی گئی ہے۔ اگر حکومت یہ نہیں دے سکی تو یقیناﹰ یہ صارفین ہی کو دینے پڑیں گے۔ ’اَرلی ہارویسٹ پراجیکٹس‘ کی تکمیل کے بعد بھی ہمارے ہاں بجلی منہگی ہو گی۔‘‘ 

انہوں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کی توجہ صرف پیداوار پر ہی ہے جب کہ بجلی کی تقسیم اور ترسیل کے حوالے سے اتنا زیادہ کام نہیں ہورہا ہے۔

وقار احمد کا مزید کہنا تھا، ’’تقریبا چوبیس فیصد بجلی خستہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹربیوشن نظام کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہے۔ یہ نظام بہت پرانا ہے اور اس میں فوری طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ دس فیصد بجلی چوری ہوجاتی ہے۔ ‘‘

انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف بجلی یا گیس پیدا کرنے کا نہیں بلکہ سستے ریٹ پر توانائی پیدا کرنے کا ہے۔ وقار احمد کے مطابق ،’’ یہ بات صیح ہے کہ اب گیس کی لوڈشیڈنگ صنعتی علاقوں میں نہیں ہے لیکن ایل این جی اتنی مہنگی ہے کہ اب صنعت کار گیس کے بجائے متبادل ذرائع ڈھونڈ رہے ہیں۔ میں ذاتی طور پرایک بہت بڑی سیمنٹ کی فیکڑی کو جانتا ہوں، جو ایل این جی پر اپنے یونٹس نہیں چلا رہی۔ تو حکومت نے زیادہ مراعات بھی چینی کمپنیوں کو دیں اور اس کا ٹیرف بھی بہت مہنگا رکھا۔ جس کا نقصان صارفین کو ہوگا۔ چینی کمپنیوں کا بھی یہ مطالبہ تھا کہ ہمیں ٹیرف مہنگا دیں اور حکومت نے ویسا ہی کیا۔‘‘

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسڑیز کے سابق صدر محسن خالد نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’یہ بات صیح ہے کہ آپ کے پاس بجلی ہوگی لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ بجلی سستی بھی ہوگی۔ اب ان پراجیکٹس کے مکمل ہونے کے بعد دس سال تک تو کوئی امکان نہیں کہ بجلی ہمیں سستی ملے۔ اگر حکومت بہت زیادہ سبسڈی دے ، جو دینا مالی اعتبار سے بہت مشکل ہے، تو اور بات ہے لیکن سبسڈی کے بغیر اس ٹیر ف پر بجلی سستی نہیں ملے گی۔‘‘

معروف صنعت کار احمد چنائے نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’جب حکومت یہ معاہدے کر رہی تھی تو ہم نے اپنے تحفظات سے انہیں آگاہ کیا تھا لیکن حکومت نے ہماری نہیں سنی اور یہ کہا کہ پہلے ہم بجلی کی کمی کو پورا کریں گے اور بعد میں قیمت کم ہوجائے گی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ بعد والامعاملہ جب تک آئے گا ، اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بجلی سستی ہوگی اور ہم مہنگے نرخوں پر خرید رہے ہوں گے۔ احمد چنائے کے بقول ، ’’آپ دیکھیں گے کہ دنیا میں بجلی آٹھ سینٹ فی یونٹ ہوگی اور ہمارے ہاں یہ اٹھارہ کے قریب ہوگی۔ اس سے تو ہماری صنعتیں برباد اور برآمدات ختم ہو جائیں گی۔ پھر حکومت کہے گی کہ صنعت کار بنگلہ دیش اور دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔

DW.COM