’سی پیک‘ امید اور خوش حالی کی علامت، چینی وزیر | حالات حاضرہ | DW | 21.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سی پیک‘ امید اور خوش حالی کی علامت، چینی وزیر

ایک چینی وزیر کا کہنا ہے کہ چین کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے وہ ہمیشہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ کام کرے گا، پاکستان اور چین دو بھائی ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔

’پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ‘ کی جانب سے منعقدہ ایک سینیمار سے خطاب کرتے ہوئے چینی کمیونسٹ پارٹی میں نائب وزیر برائے بین الاقوامی امور زینگ زی او زونگ نے کہا،’’چین کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے وہ ہمیشہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ کام کرے گا، پاکستان اور چین  دو بھائی ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔‘‘ چینی وزیر نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہ داری امید اور مل کر کام کرنے کا ایک منصوبہ ہے اور اس کے ذریعے دونوں ممالک کو عوامی رابطے بھی بڑھانے چاہیں۔

اس موقع پر پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہ داری منصوبے کی پارلیمانی کمیٹی کے نائب چیئرمین عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ان کے صوبے بلوچستان میں اس منصوبے کے حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی بندرگاہ میں کئی ممالک نے دلچسپی دکھائی تھی لیکن پاکستان نے چین کا انتخاب دونوں ممالک میں قائم بھروسے کے باعث کیا۔

Karte Map China Pakistan Economic Corridor

پاکستانی انگریزی اخبار ڈان کے مطابق چینی وزیر نے یہ بھی کہا کہ پاک چین اقتصادی راہ داری کی کامیابی کے لیے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو جانا چاہیے اور  مل کر ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے کوششیں کرنی چاہیں۔ ’’پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے مختلف مفادات ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو احسن طریقے سے حل کریں گی اور پاک چین اقتصادی راہ داری منصوبے کو کامیاب بنائیں گی۔‘‘

واضح رہے کہ اس منصوبے پر پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف سمیت کچھ سیاسی جماعتوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جو کہ چینی حکام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ چین اور پاکستان نے گزشتہ سال چھیالیس ارب ڈالرز کی لاگت سے  پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کی بنیاد رکھی تھی۔ اس منصوبےکے تحت چین کو بذریعہ سڑک اور ریل گوادر کی بندرگاہ سے ملایا جائے گا۔