1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سی ایس یو پارٹی کانگریس کے مہمان، میرکل کا نام فہرست سے غائب

جرمنی میں بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی ملک میں مہاجرین کے آزادانہ داخلے کی پالیسی نے اگلے الیکشن میں ان کی پارٹی کی ممکنہ فتح بہت مشکل بنا دی ہے۔

Berlin Angela Merkel - Johann N. Schneider-Ammann (picture-alliance/AA/M. Gambarini)

چانسلر میرکل نے اب تک آئندہ انتخابات میں ایک بار اپنے امیدوار ہونے یا نہ ہونے کا اب تک کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا

یہ گزشتہ سولہ برسوں میں پہلی مرتبہ ہو گا کہ جرمنی میں حکمران پارٹی سی ڈی یو  کی قیادت کرنے والی چانسلر میرکل کا نام صوبے باویریا میں حکمران کرسچن ڈیموکریٹس کی ہم خیال جماعت کرسچن سوشل یونین کی جمعہ چار نومبر کے روز ہونے والی پارٹی کانگریس میں شریک مہمانوں کی فہرست میں شامل نہیں ہو گا۔

میرکل کی CSU کی پارٹی کانگریس میں عدم موجودگی غالباﹰ اس ناراضگی کو ظاہر کرتی ہے، جو میرکل حکومت میں سی ڈی یو کی اتحادی اس جماعت کے رہنماؤں میں برلن حکومت کی مہاجرین سے متعلق پالیسی کے بارے میں پائی جاتی ہے۔

گزشتہ برس نو لاکھ کے قریب پناہ گزین جرمنی پہنچے تھے جن میں سے زیادہ تر کی گزر گاہ جنوبی صوبہ باویریا ہی تھا۔ اس سے قبل سی ایس یو کی سالانہ کانگریس کے موقع پر بھی چانسلر انگیلا میرکل کو اس جماعت کے سربراہ اور باویریا کے صوبائی وزیر اعلیٰ ہورسٹ زیہوفر کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پناہ گزینوں کو جرمنی میں کھلے دل سے خوش آمدید کہنے کے حوالے سے جہاں چانسلر میرکل کے بیرون ملک مداحوں میں اضافہ ہوا، وہیں تارکین وطن کی مخالف اور دائیں بازو کی عوامیت پسند جماعت ’آلٹرنیٹیو فار جرمنی‘ یا اے ایف ڈی کو بھی داخلی طور پر مزید پھلنے پھولنےکا موقع ملا۔

Deutschland Mitglied der Partei AfD in Mainz (picture-alliance/dpa/F. von Erichsen)

سیاسی منظر نامے پر دائیں بازو کی مہاجر مخالف سیاسی جماعت اے ایف ڈی نے میرکل کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا

سیاسی منظر نامے پر دائیں بازو کی مہاجر مخالف سیاسی جماعت اے ایف ڈی نے اس معاملے میں میرکل کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا اور اسی باعث اس پارٹی کی عوامی حمایت میں اضافہ بھی ہوا۔ اے ایف ڈی حالیہ ریاستی انتخابات میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہی۔

اس تناظر میں مہاجرین، اسلام اور ملک میں مسلمہ سیاسی طاقت کی حامل جماعتوں پر کھل کر تنقید کرنے والی پارٹی اے ایف ڈی کے آئندہ انتخابات میں اور زیادہ کامیابیاں حاصل کر لینے کے امکانات بظاہر کافی زیادہ ہیں۔

چانسلر میرکل نے اب تک آئندہ انتخابات میں ایک بار اپنے امیدوار ہونے یا نہ ہونے کا اب تک کوئی باقاعدہ اعلان تو نہیں کیا تاہم امید ہے کہ وہ یہ باضابطہ اعلان رواں برس دسمبر میں ہونے والی اپنی پارٹی کرسچن ڈیموکریٹک یونین کی کانگریس میں کریں گی۔

باویریا کے حکومتی سربراہ زیہوفر نے پیر اکتیس اکتوبر کو خبردار کیا تھا کہ سن دو ہزار سترہ میں مہاجرین کا بحران کچھ دھیما پڑ جانے کے بعد اُن کی جماعت کا مشن بائیں بازو کی جماعتوں کو جرمنی میں اقتدار حاصل کرنے سے انتخابی طور پر روکنا ہو گا۔

انگیلا میرکل یہ اعتراف بھی کر چکی ہیں کہ وہ اس جرمن صوبے میں اپنی پارٹی کی انتخابی شکست کی ’ذمے دار‘ ہیں، جہاں ان کا اپنا انتخابی حلقہ بھی ہے تاہم ساتھ ہی جرمن چانسلر نے یہ بھی کہا تھا کہ مہاجرین کے حوالے سے ان کی حکومتی پالیسی درست تھی۔

DW.COM