1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سی آئی اے کے پاکستان چیف اسلام آباد سے ’رخصت‘

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پہ بتایا ہے کہ پاکستان کے لیے سی آئی اے کے چیف علاج کی غرض سے امریکہ واپس لوٹ گئے ہیں۔

default

اسامہ بن لادن کو امریکی اسپیشل فورسز نے ایبٹ آباد میں ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک کیا تھا

امریکی حکومت کے ایک عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پہ بتایا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے سے وابستہ اسلام آباد کے اسٹیشن چیف خرابی صحت کے باعث پاکستان سے امریکہ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے لیے سی آئی اے کے اسی اہلکار نے دو مئی کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سابق لیڈر اسامہ بن لادن کی پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک امریکی آپریشن میں ہلاکت کے ضمن میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ امریکی عہدیدار کے مطابق سی آئی اے کے چیف کو واشنگٹن میں صدر اوباما اور ان کی انتظامیہ کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔

''زیادہ تر لوگ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ سی آئی اے کے چیف نے تاریخ ساز انٹیلیجنس فتح میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، اور اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ پاکستانی اس بارے میں کیا سوچتے ہیں،‘‘ امریکی عہدیدار کے الفاظ۔

Flash Galerie Demonstration in Pakistan

سی آئی کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں پاکستانیوں کے قتل نے بھی آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے تعلقات میں بگاڑ پیدا کیا تھا

تاہم امریکی ٹی وی اے بی سی نیوز نے امریکی اور پاکستانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے سی آئی اے کے چیف شاید اب واپس پاکستان نہ جائیں۔ خیال رہے کہ یہ سات ماہ میں پاکستان سے دوسرے امریکی سی آئی اے چیف کی رخصتی ہے۔ موجودہ چیف کے پیش رو کا نام ظاہر ہو جانے کے بعد ان کو پاکستان چھوڑنا پڑا تھا۔

اے بی سی کے مطابق سی آسی اے چیف کے پاکستان چھوڑنے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کی توقع ہے کیوں کہ مذکورہ چیف کے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے بعض اعلیٰ حکام کے ساتھ تعلقات انتہائی خراب ہیں۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات خراب ہیں۔ امریکہ پاکستان کی فوجی امداد میں کٹوتی کرچکا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا فقدان موجود ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM