1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سی آئی اے پاکستان میں اپنی کارروائی بند نہیں کرے گی، امریکی اہلکار

ایک امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ پاکستانی رہنماؤں کے اعتراضات کے باوجود سی آئی اے پاکستان میں مشتبہ افراد کے خلاف اپنا ’آپریشن‘ بند نہیں کرے گی۔

لیون پنیٹا

لیون پنیٹا

پاکستان کی طرف سے افغانستان سے متصل ملک کے قبائلی علاقوں میں مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں پر تنقید کی جارہی ہے۔ تاہم امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا نے انٹیلجنس حکام کو بتایا ہے کہ امریکہ کے خلاف کسی بھی طرح کے حملے کو روکنا ان کی ذمہ داری ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بات ایک سینئر امریکی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی ہے۔

امریکی اہلکار کے مطابق:’’ پنیٹا نے پاکستانی عہدیداروں پر واضح کردیا ہے کہ ان کی بنیادی ذمہ داری امریکی لوگوں کی حفاظت ہے اور وہ ایسی کارروائیاں بند نہیں کریں گے جو اس مقصد کے لیے ضروری ہیں۔‘‘

17 مارچ کو شمالی وزیرستان پر کیے جانے والے ایک ڈرون حملے میں 40 کے قریب لوگ ہلاک ہوگئے تھے

17 مارچ کو شمالی وزیرستان پر کیے جانے والے ایک ڈرون حملے میں 40 کے قریب لوگ ہلاک ہوگئے تھے

سی آئی کے سربراہ لیون پنیٹا نے پیر کے روز پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے ساتھ واشنگٹن میں کئی گھنٹے طویل ملاقات کی۔ امریکی میڈیا کے مطابق پاشا نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈرون حملوں میں کمی کے علاوہ پاکستان میں موجود سی آئی اے کے ایجنٹوں کی تعداد میں بھی کمی کرے۔

پاکستانی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بدھ 13 اپریل کو قریب ایک ماہ کے وقفے کے بعد ہونے والا ڈرون حملہ بظاہر سی آئی کے ڈائریکٹر کے مؤقف کو ثابت کرتا ہے۔ اس سے قبل 17 مارچ کو شمالی وزیرستان پر کیے جانے والے ایک ڈرون حملے میں 40 کے قریب لوگ ہلاک ہوگئے تھے جن میں عام شہریوں کے علاوہ پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ اس حملے پر پاکستان کی فوجی اور سول قیادت کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: شامل شمس

DW.COM