1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سی آئی اے اور آئی ایس آئی روابط: تناؤ مگر تعطل نہیں

جمعرات کے روز ایک پاکستانی خفیہ اہلکار نے خبررساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس ISI اور امریکی خفیہ تحقیقاتی ادارے CIA کے روابط تناؤ کا شکار ہیں، مگر ختم نہیں ہوئے۔

default

پاکستانی خفیہ ادارے کے اس سینیئر اہلکار کے مطابق لاہور میں امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کے قتل کی وجہ سے دونوں خفیہ اداروں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ اس تناؤ کی وجہ یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کے کنٹریکٹ ملازم ہیں اور یہ بات آئی ایس آئی کو نہیں بتائی گئی تھی۔

Raymond Davis

ریمنڈ ڈیوس پاکستان میں زیرحراست ہیں

مبینہ طور پر ریمنڈ ڈیوس نے گولیاں مار کر لاہور میں دو پاکستانی شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا اور اس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

پاکستانی خفیہ ادارے کے اس سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبررساں ادارے کو بتایا کہ اس وقت دونوں خفیہ اداروں کے درمیان معمول کی سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں، مگر ایسا بھی نہیں کہ ان کے مابین جنگ کا سا ماحول ہو۔

ایک اور خفیہ اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ کہنا ہرگز درست نہ ہوگا کہ دونوں ایجنسیاں مل کر کام نہیں کر رہیں، ’ہم علحیدہ ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ایجنسیاں جانتی ہیں، کہ خطے کے وسیع تر مفاد اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ایسا کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کو ہرصورت مل کر کام کرنا ہے۔‘

Flash Galerie Demonstration in Pakistan

پاکستان میں اس حوالے سے امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے

36 سالہ ڈیوس پر قتل کے الزام کے تحت جاری مقدمے کی سماعت آج ہو رہی ہے۔ سی آئی اے کے کنٹریکٹ ملازم ریمنڈ ڈیوس لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے لیے سکیورٹی کے فرائض انجام دیتے تھے۔ امریکہ پاکستان سے مطالبہ کر رہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس لاہور میں سفارتی امور کی انجام دہی کے لیے متعین تھے، اس بنا پر انہیں سفارتی استثنیٰ دیا جائے، تاہم پاکستان اس معاملے کو عدالت کے ذریعے حل کرنے پر مصر ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں امریکہ کے خلاف پایا جانے والا ’عوامی غصہ‘ حکومتِ پاکستان کو اس معاملے پر امریکی مطالبات تسلیم کرنے سے روک رہا ہے۔

واضح رہے کہ ریمنڈ ڈیوس نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ذاتی دفاع میں ان افراد پر گولی چلائی، جو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ پاکستانی دفتر استغاثہ نے ڈیوس کے اس بیان کو رد کر دیا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس