1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیہون حملے کے بعد پاکستان میں ’سو دہشت گرد‘ ہلاک کر دیے گئے

پاکستانی صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں جمعرات کی شام صوفی بزرگ شہباز قلندر کی درگاہ پر کیے گئے خود کش بم حملے کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی فورسز نے ’سو عسکریت پسندوں اور مشتبہ دہشت گردوں‘ کو ہلاک کر دیا ہے۔

سیہون سے جمعہ سترہ فروری کی شام ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ملکی سکیورٹی فورسز نے کل جمعرات کی شام شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں ہونے والے خود کش بم حملے کے بعد سے جمعے کی رات تک ملک کے مختلف حصوں میں آپریشن کرتے ہوئے ’سو سے زائد دہشت گردوں‘ کو ہلاک کر دیا۔

اس بم حملے میں کم از کم 20 بچوں سمیت 88 افراد ہلاک ہوئے جبکہ بیسیوں زخمی ہیں، جن میں سے متعدد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ اس بہت ہی ہلاکت خیز بم دھماکے کی ذمے داری عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے قبول کر لی تھی۔

پاکستان: افغانستان سے 76 مطلوب دہشتگردوں کی حوالگی کا مطالبہ

'ہمیں کیا برا تھا مرنا ، اگر ایک بار ہوتا‘

اب پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اس حملے کے رد عمل میں جو کارروائیاں کی ہیں، ان کے بعد اے ایف پی کے مطابق یہ خوف بھی پیدا ہو گیا ہے کہ عسکریت پسند مزید خونریز حملے کرنے کی کوششیں کریں گے اور یوں پاکستان میں ممکنہ طور پر ہلاکت خیز دہشت گردی کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آ سکتی ہے۔

سیہون بم حملے کی خاص بات یہ بھی تھی کہ یہ پاکستان میں کافی عرصے بعد ہونے والا کوئی پہلا دہشت گردانہ حملہ نہیں تھا بلکہ گزشتہ دنوں کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں عسکریت پسند یکے بعد دیگرے کئی بڑے بم حملے کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، جن سے عوام میں ایسے بم دھماکوں کے ایک پورے نئے سلسلے کا احساس پیدا ہو گیا تھا۔

PAKISTAN Sehwan Anschlag auf Sufi-Schrein (Getty Images/AFP/Y. Nagori)

سیہون بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد اب تک اٹھاسی ہو چکی ہے

سیہون میں حملے سے چند ہی روز قبل صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں صوبائی اسمبلی کی عمارت کے سامنے بھی ایک بڑا خود کش بم حملہ کیا گیا تھا، جس میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے اور اس حملے کی ذمےد اری تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کر لی تھی۔

خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا، پاکستانی فوجی سربراہ

پاکستان میں ایک اور خود کش حملہ، ستر سے زائد ہلاک، کئی زخمی

پاکستانی فوج کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ سیہون میں کل شام کے حملے کے بعد سے ملک میں ’سو سے زائد دہشت گردوں‘ کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور سکیورٹی دستے ملک کے مختلف حصوں میں اپنے آپریشن ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق جمعرات کی رات سے لے کر جمعے کی شام تک سلامتی کے ذمے دار دستے صرف سندھ میں کم از کم 18 مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر چکے تھے جبکہ شمال مغربی پاکستان میں ایسے عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کی تعداد 13 بتائی گئی ہے۔

DW.COM