1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیکیورٹی کے نئے امریکی ضوابط پر تنقید

بعض ممالک کے شہریوں کے لئے امریکی ہوائی اڈوں پر سخت سیکیورٹی اقدامات پر تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ نائجیریا اور کیوبا نے اس پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔

default

کیوبا نے مخصوص ممالک کے شہریوں کے امریکہ کا سفر کرنے سے متعلق سخت ضوابط کو 'دہشت گردوں کے خلاف خلل دماغی' کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ کیوبا کے سرکاری روزنامہ 'گراما' نے اپنی پیر کی اشاعت میں لکھا ہے کہ اسی خلل دماغی کے باعث امریکہ نے اپنے ہوائی اڈوں پر زیادہ سخت سیکیورٹی اقدامات کئے ہیں۔

Verhinderter Anschlag auf Flugzeug in den USA

امریکہ کے نئےضوابط کے تحت 14 ممالک کے شہریوں کو اور بھی سخت سیکیورٹی مراحل سے گزرنا ہو گا

ڈیٹرائٹ حملے کے ناکام کوشش کے ردعمل پر امریکہ نے پاکستان سمیت چودہ ممالک سے آنے والے مسافروں کے لئے نئے سیکیورٹی ضوابط متعارف کرائے ہیں، جن کے تحت ان ممالک سے آنے والے مسافروں یا ان کے شہریوں کو امریکی ہوائی اڈوں پر جامہ تلاشی سمیت جانچ پڑتال کے سخت مراحل سے گزرنا ہو گا۔

کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی کے اس اخبار نے کہا ہے کہ ان اقدامات کے باعث تمام فضائی کمپنیاں متاثر ہوں، چاہے وہ امریکی ہی کیوں نہ ہوں۔

کیوبا، ایران، سوڈان اور شام، واشنگٹن حکومت کی دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں اور ان چودہ ممالک میں بھی، جن کے شہریوں کو امریکی ہوائی اڈوں پر جامہ تلاشی سمیت سیکیورٹی کے اور بھی سخت مراحل سے گزرنا ہو گا۔

اس فہرست میں شامل دیگر ممالک میں افغانستان، لیبیا، پاکستان، صومالیہ، یمن اور نائجیریا ہے۔ امریکی اخبارات 'نیویارک ٹائمز' اور 'واشنگٹن پوسٹ' نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ الجزائر، لبنان، سعودی عرب اور عراق بھی ان چودہ ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ کیوبا اور امریکہ کے مابین سفارتی تعلقات نہ ہونے کے علاوہ دونوں ممالک کے مابین باقاعدہ پروازیں بھی نہیں ہیں۔ تاہم ہوانا سے روزانہ آٹھ خصوصی چارٹر پروازیں میامی اور فلوریڈا سمیت تین امریکی شہروں کو جاتی ہیں۔

Umar Farouk Abdulmutallab

ڈیٹرائٹ حملے میں ملوث مشتبہ دہشت گرد عمر فاروق عبدالمطلب

نائجیریا نے بھی امریکہ کے ان اقدامات کو غیرمنصفانہ قرار دیا ہے۔ نائجیریئن حکام کا کہنا ہے کہ ایمسٹرڈیم سے ڈیٹرائٹ جانے والے طیارے کے حملے کی ناکام کوشش میں ان کا ایک شہری ملوث تھا۔ تاہم واشنگٹن کا ایسا ردعمل اس کے پندرہ کروڑ شہریوں کے خلاف متعصب کارروائی ہے۔ ابوجا حکام نے کہا ہے کہ ڈیٹرائٹ حملے کا ملزم عمر فاروق عبدالمطلب نائجیریا کی نمائندگی نہیں کرتا۔

دوسری جانب امریکہ میں کونسل برائے خارجہ تعلقات میں سلامتی امور کے ایک ماہر ایڈورڈ ایلڈین نے کہا ہے کہ ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کوسخت بنانے کے لئے امریکہ نے نئے اقدامات کا فیصلہ بغیر کسی غوروخوض کےکیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہےکہ کہ مستقبل میں دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے کے لئے یہ اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہوں گے۔ ایلڈن نے اوباما انتظامیہ کے اُن ضوابط کو نا پختہ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ایسے اقدامات کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM