1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیکیورٹی پر بھارتی فوکس مذاکرات کو محدود بنا دے گا، پاکستان

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت نے آ ئندہ ہفتے کے مذاکرات کو سیکیورٹی کے موضوع تک محدود رکھنے کی کوشش کی تو مطلوبہ پیش رفت نہیں ہو سکے گی۔

default

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دہشت گردی پر ہی فوکس کیوں؟ ’’کشمیر جیسے دیگر تنازعات کو نظر انداز کر کے ہم اچھے تعلقات کیسے قائم کر سکتے ہیں؟‘‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نئی دہلی حکام اگر ان مذاکرات کو محدود کرنا چاہتے ہیں، حقیقت کو نظرانداز کرنا چاہتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تنازعات پس پشت ڈالنا چاہتے ہیں تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔

تاہم شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ ہر بات مذاکرات کی میز پر کی جائے، پرامن مذاکرات کئے جائیں اور دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے پرامن حل تلاش کئے جائیں۔

’’کیا پاکستان نہیں چاہتا کہ سیکیورٹی کا موضوع مذاکرات پر حاوی رہے؟‘‘ اس سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر خارجہ قریشی نے کہا: ’’اگر آپ مذاکرات کو اپنے مفاد کے موضوع تک محدود کر دیں گے تو آپ ان مذاکرات کے اصل مقصد کو ہی ختم دیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بھی مفادات ہیں۔

بھارت نے نومبر 2008ء میں ممبئی میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے تھے۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان میں کالعدم عسکریت پسند پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ ملوث تھی۔

Bildgalerie Jahresrückblick 2008 November Indien

ممبئی حملے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات میں تعطل کا باعث بنے

بھارت نے رواں ماہ اسلام آباد کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کی پیش کش کی تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان خارجہ سیکریٹریوں کی سطح کے مذاکرات 25 فروری کو نئی دہلی میں ہوں گے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امن و سلامتی پر لامحدود مذاکرات کی پیش کش کی گئی ہے۔ شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان تعمیری ذہنیت اور کھلے دل سے مذاکرات میں شریک ہوگا۔

قریشی سے جب یہ پوچھا گیا کہ اسلام آباد حکومت لشکر طیبہ کے خلاف مزید کارروائی کر سکتی ہے، تو انہوں نے کہا: ’’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بھارت شدت پسندوں سے پاک ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان لشکر طیبہ سے بھی بڑھ کر کئی تنازعات ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے روئٹرز کو یہ انٹرویو ’ایسٹ ویسٹ انسٹیٹیوٹ سیکیورٹی کانفرنس‘ میں شرکت کے موقع پر بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں دیا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: مقبول ملک

DW.COM