1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سیکس اسکینڈل پر برہم خواتین اٹلی میں احتجاج کریں گی

اٹلی میں خواتین کے بعض حلقوں نے وزیر اعظم سلویو بیرلسکونی سے متعلق روبی گیٹ سیکس اسکینڈل پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس سے خواتین کی تذلیل ہوئی ہے اور وہ احتجاج کریں گی۔

default

خواتین کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ روبی گیٹ سیکس اسکینڈل نے انہیں بدنام کیا ہے اور اس کے خلاف اتوار کو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گی۔ منتظمین نے احتجاج میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو شامل کرنے کے لئے ویڈیو شیئرنگ کی ویب سائٹ یوٹیوب پر ایک ویڈیو بھی جاری کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے روم اور میلان سمیت ملک کے متعدد شہروں میں کیے جائیں گے۔

اطالوی وزیر اعظم سلویو بیرلسکونی کو سیکس اسکینڈل میں ملوث قرار دیا جا رہا ہے اور وہاں ذرائع ابلاغ میں ان باتوں کے چرچے گزشتہ کچھ دِنوں سے کچھ زیادہ ہی ہو رہے ہیں۔ بیرلسکونی پر الزام ہے کہ انہوں نے کم عمر ڈسکو ڈانسر روبی کو پیسے دے کر اس کے ساتھ جنسی تعلق رکھا۔ تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

پینتیس سالہ شاعرہ الیزہ ڈاوگلیو نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’یہ کوئی سیاسی تحریک نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف عمر کی خواتین، فنکاروں اور عام لوگوں کا احتجاج ہے۔‘

Italien Politik Berlusconi

اطالوی وزیر اعظم سلویو بیرلسکونی

اس بارے میں اداکارہ لونیٹا ساوینو کا کہنا ہے، ’زندگی میں ترقی کے لیے، پیسہ بنانے کے لیے، حسین دکھائی دینے کے لیے چھوٹا راستہ اختیار کرنے کا رجحان فروغ پا چکا ہے۔ لڑکیاں پارٹیوں میں جاتی ہیں اور وہاں خود کو ایک رات کے لیے بیچ دیتی ہیں، ہم اس سب کے خلاف ہیں۔‘

اٹلی میں خواتین نے اس صورت حال کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے جو تحریک شروع کی ہے، اسے ’اگر ابھی نہیں تو کب؟‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کی دستاویز پر ایک ہفتے کے اندر اندر پچاس ہزار خواتین نے دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے اخبارات، ٹیلی ویژن اور اشتہارات میں خواتین کے جنسی تبادلے کا برہنہ پہلو دکھانے کی مذمت کی ہے۔

اتوار کے مظاہرے کی منتظم اداکارہ فرانسیسکا کومینسینی کہتی ہیں، ’ہمیں ہزاروں خواتین نے فون کیے ہیں، جو اس احتجاج میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔ ہمیں اس کی توقع نہیں تھی۔‘

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس