1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیٹا ڈیل کی ناکامی‘ اقتصادی عالمگیریت پر کاری ضرب ہے

یورپی یونین اور کینیڈا کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کو یورپی یونین منظور کرنے سے قاصر رہی۔ ماہرین اس نامکمل توثیقی عمل کو ناکافی اور نامکمل بات چیت کے بغیر معاہدہ طے کرنا قرار دے رہے ہیں۔

کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کو سی ای ٹی اے یا سیٹا ڈیل کا نام دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں سات برس تک بات چیت کا سلسلہ جاری رہا۔ جب اِس ڈیل پر اوٹاوہ حکومت اور یورپی یونین دستخط کرنے کے قریب پہنچے تو ڈیل تاش کے پتوں سے بنے محل کی طرح گر گئی۔ ڈیل پر دستخط کی تقریب ستائیس اکتوبر کو کینیڈا میں ہونے والی تھی۔

اس ناکامی کواقتصادی عالمگیریت کے خلاف پائی جانے والی معاشرتی مزاحمت کا ایک کاری وار قرار دیا گیا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق سیٹا ڈیل کے ادھورا رہنے سے اقتصادی عالمگیریت کی سنہری دیوار میں ایک بڑی دراڑ نمایاں ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا اور یورپی یونین کے درمیان آزادی تجارت کی ڈیل کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے۔ تمام تر کوششوں اور مذاکراتی عمل کے باوجود بات آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔ جرمنی کے نائب چانسلر زیگمار گابریل نے امریکا اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ یل ڈیل کے سلسلے کو پوری طرح ناکام قرار دے دیا ہے۔

سیٹا ڈیل کی طرح امریکی حکام نے بحر الکاہل کے کنارے پر بسنے والے ملکوں کے ساتھ آزاد تجارت کی ایک بڑی ڈیل کو حتمی شکل تو دے رکھی ہے لیکن اِس ڈیل کو بھی ناکامی کا سامنا ہے کیونکہ امریکی کانگریس ابھی تک اِس کی توثیق کے لیے تیار نہیں ہے۔ ری پبلکن اراکین گانگریس نے اس معاہدے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اب اِس کی ناکامی اور عیاں ہو گئی ہے کیونکہ امریکی صدارتی الیکشن کے دونوں امیدواروں ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔

Deutschland Hannover Proteste gegen TTIP (Getty Images/AFP/J. Macdougall)

یورپ میں امریکا کے ساتھ مجوزہ فری ٹریڈ ڈیل کی شدید مخالفت پائی جاتی ہے

مبصرین کا خیال ہے کہ اقتصادی عالمگیریت کی تحریک اِن دونوں معاہدوں کی عدم منظوری کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو کر رہ گئی ہے۔ تقریباً ایک چوتھائی صدی قبل دیوارِ برلن کے انہدام کے وقت اقتصادی عالمگیریت کا سنہرا خواب دیکھنے والوں کے لیے کڑوی تعبیر سامنے آنا شروع ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں نے ان دونوں معاہدوں کے ناکام عمل کو ملکی اقتصادی پالیسوں کی کمزوریاں قرار دیا ہے۔

 ان مبصرین کے مطابق معاہدوں کی ناکامی کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ امریکا اور یورپی یونین کے اندرونی پریشر گروپ اپنی معاشی خامیوں کو بہتر بنانے کے علاوہ غیرملکی اقتصادی پالیسیوں اور کاروباری رویوں کو اپنانے سے گریز کر رہے ہیں۔ یورپی یونین سے برطانوی اخراج کی عوامی تائید اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تقاریر نے بھی اقتصادی عالمگیریت کو کاری ضربیں لگائی ہیں۔

 ابھرتی اور ترقی یافتہ اقتصادیات کے وزرائے خزانہ نے اکتوبر کے اوائل میں امریکی دارالحکومت میں منعقدہ اجلاس میں تسلیم کیا تھا کہ اقصادی شرح پیداوار تقسیم کے بنیادی اصول سے ہم آہنگ نہیں ہے اور غریب ملکوں تک بھی معاشی ثمرات پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ منفعت کے دروازے کھول دیے جائیں۔