1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سینیگال میں روایتی اسلام کو شدت پسندوں سے خطرہ

سینیگال میں اسلام پر ہمیشہ ہی سے کُشادہ دلی اور رواداری کی چھاپ رہی ہے تاہم اب یہاں کے صوفی سلسلے دنیا بھر میں مسلمان انتہا پسندی کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں۔

سینیگال میں اسلام پر صوفی تعلیمات کا اثر نمایاں ہے۔ یہاں پر قرون وسطٰی کے دور سے ہی صوفی عقائد کے ماننے والے موجود ہیں اور آج کے سینیگال کی نوے فیصد آبادی انہی عقائد کی پیروکار وں کی ہے۔ یہاں پر اسلام مختلف مراحل میں اور انتہائی پر امن انداز میں پھیلا ہے اور یہ سلسلہ ابھی بھی اس انداز میں جاری ہے۔

سینیگال کی ثقافت اور معاشرے پر شمالی افریقی ممالک کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ عرب ممالک میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کی وجہ سے انتہاپسندی میں بھی اضافہ ہوا، جس سے سینیگال بھی کسی حد تک متاثر ہوا ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مقامی اعتدال پسند مسلمان شدت پسندانہ اسلام کا مقابلہ کیسے کریں گے؟ مالی کے بحران کی وجہ سے جغرافیائی اور سیاسی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سینیگال کے اسلام کو انتہاپسندوں سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

سینیگال میں انتہا پسند اسلام کو فروغ دینے کی کوششیں 1980ء کی دہائی کے وسط سے جاری ہیں۔ اس سلسلے کا آغاز اخوان المسلون سے ہوا جبکہ سلفی بھی اس ملک میں اپنے قدم جمانے کی کوششیں کرتے رہے۔ سلفی اور وہابی تنظیمیں سنیگال کے صوفی عقائدکو یہ کہتے ہوئے مسترد کرتی ہیں کہ یہ ’’خالص اسلام کی مسخ شدہ شکل ہے‘‘۔

ابھی تک اس ملک میں انتہا پسند اقلیت میں ہیں لیکن مختلف شدت پسند گروپوں کی طرف سے اکثر صوفی عقائد پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ انتہا پسند انہیں ’ ایک حقیقی اسلامی معاشرے‘ کے قیام کی راہ میں ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ تاہم سینیگال کے زیادہ تر مسلمان اسلام کو پرامن اور رواداری کے ایک مذہب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں اسلام بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ لوگ انتہا پسند تنظیم ’انصارالدین‘ کے طریقہ اسلام کو ابھی تک رد کر رہے ہیں۔ یہ وہ تنظیم ہے، جس نے مالی کے شہر ٹمبکٹو میں صوفیا کے مزارات کو تباہ کیا تھا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ سینیگال میں ابھی تک صورتحال قابو میں ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پریشان نہ ہوا جائے۔ صوفیانہ اسلام فی الحال شدت پسندی کے سامنے ایک فَصیل بن کر کھڑا ہے۔ ماہرین کے بقول رواداری کے تصور پر چلنے والا یہ ملک اسلام کی شدت پسندانہ شکل کے ماننے والوں کا ہدف بن سکتا ہے۔