1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سینکڑوں ہلاکتوں کے بعد جنوبی سوڈان کا دارالحکومت پرسکون

جنوبی سوڈان کے دارالحکومت جوبا میں صدر سِلوا کِیر کی فوج اور باغیوں کے لیڈر رِیک مچار کے حامی جنگجوؤں کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک جبکہ ہزاروں بے گھر ہوئے ہیں لیکن اب وہاں حالات پرسکون ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دارالحکومت جوبا میں حالات اس وجہ سے پرسکون ہوئے ہیں کہ ملکی صدر سِلوا کِیر نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب اپریل میں نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے والے ریک مچار نے بھی ایک مقامی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی فورسز کو فائر بندی کا حکم دیا ہے تاکہ جنگ بندی کا سلسلہ جاری رہ سکے۔ تاہم باغیوں کے لیڈر ریک مچار کے ایک ترجمان نے یہ تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے کہ یہ آواز انہی کے لیڈر کی تھی، اس نے اس پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

دوسری جانب امدادی تنظیم ورلڈ وژن کے ایک اہلکار یرمیحا ینگ نے جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے دارالحکومت میں منگل کے روز کسی بھی قسم کی فائرنگ کی آواز نہیں سنی ہے۔ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے اس اہلکار کا کہنا تھا، ’’اب کچھ لوگوں نے خطرہ مُول لیتے ہوئے باہر جانا شروع کیا ہے لیکن ابھی حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں۔‘‘

Südsudan Präsident Salva Kiir und Vizepräsident Riek Machar

حریف لیڈروں سِلوا کِیر اور رِیک مچار کے مابین امن معاہدہ اگست دو ہزار پندرہ میں طے پایا تھا اور رواں برس اپریل میں ایک متحدہ حکومت بھی تشکیل دی گئی تھی

ایک جرمن فوٹوگرافر کا کہنا تھا، ’’یہاں پر فی الحال ہر طرف خاموشی ہے۔‘‘ تاہم کچھ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دکانیں اب کھل رہی ہیں۔

دریں اثناء حکومتی افواج کے ایک ترجمان لولروئی کوانگ نے کہا ہے کہ فوج جنگ بندی کی پاسداری کر رہی ہے اور جو عام شہری خوف سے گھر بار چھوڑ گئے تھے، اب واپس لوٹ رہے ہیں۔

اس لڑائی کا آغاز جمعے کے روز ہوا تھا اور اندازوں کے مطابق اتوار کی شام تک دو سو ستّر افراد ہلاک ہو چکے تھے لیکن اب ان ہلاکتوں میں اضافے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں اقوام متحدہ کے دو امن فوجی بھی شامل ہیں۔ چینی میڈیا کا کے مطابق یہ دونوں اہلکار چینی شہری تھے۔ ہزاروں افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر اسکولوں، گرجا گھروں، امدادی کیمپوں اور ہسمایہ ملک یوگنڈا کی طرف منتقل ہو گئے تھے لیکن ان میں سے تیس ہزار کے قریب افراد نے دارالحکومت ہی میں پناہ لی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ لڑائی دارالحکومت کے علاوہ دوسرے علاقوں تک بھی پھیل گئی تھی۔

ایک دوسرے کے حریف لیڈروں سِلوا کِیر اور رِیک مچار کے مابین امن معاہدہ اگست دو ہزار پندرہ میں طے پایا تھا اور رواں برس اپریل میں ایک متحدہ حکومت بھی تشکیل دی گئی تھی۔ تاہم اس لڑائی سے ایک مرتبہ پھر سوڈان سے علیحدگی اختیار کرنے والے اور تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک میں امن کی امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔

سن دو ہزار تیرہ میں ان دونوں رہنماؤں کے درمیان شروع ہونے والی اقتدار کی جنگ ایک مسلح تنازعے میں تبدیل ہو گئی تھی۔ تب سے اس لڑائی میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد تقریباﹰ دو ملین بنتی ہے۔