1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال

اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینیوں نے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ فلسطینی قیدیوں کی ایک انجمن کے مطابق قیدیوں نے جیل کے حالات میں بہتری کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

مشہور فلسطینی خاتون اور سیاستدان حنان عشراوی نے اسرائیلی حراستی انتظامات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ متاثرین کو ’سکیورٹی وجوہات کی بناء پر‘‘ الزام عائد کیے بغیر چھ ماہ تک قید میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس حراستی وقت میں غیر معینہ مدت کے لیے اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

 اسرائیل کی قید میں اس وقت تقریبا چھ ہزار تین سو فلسطینی موجود ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران فلسطینی قیدیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بھوک ہڑتال کی یہ کال مشہور فلسطینی قیدی مروان البرغوثی کی طرف سے دی گئی ہے۔

اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد

فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے قیدیوں کے امور کے سربراہ عیسیٰ قراقی کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس ہڑتال میں تیرہ سو قیدی شمولیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ اس تعداد میں اضافہ متوقع  ہے۔ فلسطینی قیدیوں کی ایک تنظیم کے مطابق پندرہ سو قیدی بھوک ہڑتال کر چکے ہیں۔

بھوک ہڑتالی فلسطینیوں کو زبردستی خوراک دینے کا قانون منظور

اسرائیلی جیل سروس کے ترجمان ایساف لبراتی کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ سات سو قیدیوں نے اتوار کو بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔‘‘ اسرائیلی حکام کے مطابق انہیں بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کی اصل تعداد کا علم نہیں ہے کیوں کہ کچھ قیدیوں نے کہا تھا کہ وہ علامتی بھوک ہڑتال کر رہے ہیں اور بعد میں کھانا کھائیں گے۔

یہ ہڑتال ’فلسطینی قیدیوں کے دن‘ کے موقع پر کی گئی ہے۔ فلسطینی اس دن کا انعقاد ہر سال کرتے ہیں۔

DW.COM