1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سینکڑوں طالبان ہتھیار پھینک چکے ہیں، نیٹو

نیٹو حکام کے مطابق افغانستان میں 1700 سے زائد جنگجو اپنی مسلح جدوجہد ترک کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ مسلح عسکریت پسندوں کے معاشرے میں دوبارہ انضمام سے متعلق ایک پروگرام افغان حکومت نے گزشتہ برس شروع کیا تھا۔

default

افغانستان میں سابقہ جنگجوؤں کے معاشرے میں دوبارہ انضمام کے عمل کے نگران برطانوی میجر جنرل فل جانز نے کابل میں بتایا، ’’اب تک ایسے 1740 جنگجو افغان معاشرے میں اپنے دوبارہ انضمام کے لیے اس پروگرام میں شامل ہو چکے ہیں۔‘‘

فل جانز کے مطابق افغانستان میں سیاسی مصالحتی پروگرام مسلسل جاری ہے، ’’افغان امن کونسل ملک بھر میں مسلح مزاحمت کرنے والے افراد کے 40 سے لے کر 45 گروپوں تک کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔‘‘

افغان دارالحکومت کابل سے ٹیلی فون پر واشنگٹن میں امریکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس برطانوی جنرل کا کہنا تھا، ’ہمیں امید ہے کہ مزید دو ہزار تک افغان عسکریت پسند جلد ہی ہتھیار پھینک دیں گے۔‘

NO FLASH Taliban legen Waffen nieder

اب تک 1740 جنگجو افغان معاشرے میں اپنے دوبارہ انضمام کے لیے اس پروگرام میں شامل ہو چکے ہیں

میجر جنرل جانز نے مزید بتایا کہ تشدد کا راستہ ترک کر دینے، طالبان کے ساتھ اپنے رابطے ختم کر دینے اور افغان آئین کے احترام کا عہد کرنے والے ایسے تمام سابقہ جنگجو افراد کو عام معافی دے دی جاتی ہے اور ان کے خلاف کسی قسم کے کوئی مقدمات قائم نہیں کیے جاتے۔

اس اعلیٰ برطانوی فوجی اہلکار کے بقول افغانستان میں ابھی بھی تقریباﹰ 25 ہزار عسکریت پسند جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں طالبان اور حقانی گروپ کے اراکین بھی شامل ہیں۔ اس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 141 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی، جس میں سے 58 ملین ڈالر صرف امریکہ کی طرف سے دیے جائیں گے۔ یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ امریکہ سن 2012 تک افغان آرمی کی تشکیل اور ٹریننگ کے لیے 12.8 بلین ڈالر کی رقم خرچ کرے گا۔

NO FLASH Taliban legen Waffen nieder

اکثر جنگجو یہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ کسی مسلح جدوجہد میں حصہ نہیں لیں گے، مگر کابل ان کے ساتھ اپنے اس معاہدے کا باقاعدہ اعلان نہ کرے

میجر جنرل جانز کے مطابق اپنی مسلح جدوجہد ترک کرنے والے افغانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اکثر جنگجو یہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ کسی مسلح جدوجہد میں حصہ نہیں لیں گے، مگر کابل ان کے ساتھ اپنے اس معاہدے کا باقاعدہ اعلان نہ کرے۔‘‘

افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے بنائی گئی قومی امن کونسل کا بنیادی کام طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا اور انہیں مزاحمت ترک کر کے معاشرے کے مرکزی دھارے میں دوبارہ شمولیت پر آمادہ کرنا ہے۔ اس کونسل کے ترجمان نے اس حوالے سے کہا کہ ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ شدت پسندوں کو ایک ایسا باعزت راستہ فراہم کریں، جس پر چلتے ہوئے وہ انتہا پسندی کا راستہ چھوڑ کر معمول کی سماجی زندگی کا حصہ بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ’باعزت واپسی‘ کے اس پروگرام تحت طالبان کو سرکاری عہدے، گھر اور تنخواہیں دینے کے علاوہ جذباتی طور پر ان کی عزت نفس کا بھی خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM