1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سینکڑوں طالبان کا دیر میں سکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر خونریز حملہ

افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں طالبان عسکریت پسندوں نے حملہ کرکے کم از کم 19 سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔

default


فوجی ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں پانچ سے چھ سو کے درمیان عسکریت پسندوں نے حصہ لیا۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ عسکریت پسند مشرقی افغان صوبے کُنڑ سے پاکستان کے علاقے کُوز دیر میں داخل ہوئے اور ایک اسکول میں قائم سکیورٹی فورسز کی خرکئی پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع کا البتہ کہنا ہے کہ عسکریت پسند پاکستانی طالبان تھے جو خیبر پختونخوا کے ضلع دیر سے متصل قبائلی علاقے باجوڑ سے حملہ آور ہوئے تھے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا، ’’ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ یہ باجوڑ سے کُنڑ گئے اور وہاں اپنے افغان ساتھیوں کی مدد سے حملہ آور ہوئے۔‘‘

Pakistan Flugzeug Absturz Air Blue

علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے

ایک مقامی عہدیدار فضل کریم کے بقول اس چیک پوسٹ پر فرنٹیئر کانسٹیبلری اور مقامی سرحدی فورس کے اہلکار تعینات تھے۔ کریم کے بقول عسکریت پسندوں نے اس چیک پوسٹ پر کئی گھنٹوں تک بھاری اسلحے سے فائرنگ کی، ’’بہت سے سکیورٹی اہلکار فائرنگ کے اس تبادلے میں ہلاک ہوئے جبکہ پوسٹ پر قابض ہونے کے بعد انہوں نے وہاں پانچ زندہ بچ جانے والوں کے سر قلم کردیے۔‘‘

طالبان کے ایک ترجمان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹ کا انتظام دوبارہ حاصل کرکے علاقے میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM