1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

سیلویسٹر اسٹیلون پر سرقے کا مقدمہ

ہالی ووڈ کے ممتاز اداکار سیلویسٹر اسٹیلون پر فلم کا اسکرپٹ چوری کرنے کا مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ علمی سرقے کا مقدمہ نیویارک شہر کی عدالت میں ایک امریکی رائٹر کی جانب سےدائر کیا گیا ہے۔

default

سیلویسٹر اسٹیلون

امریکی شہر نیو یارک کے مین ہٹن علاقے میں واقع ایک عدالت میں ناول نگار مارکوس ویب (Marcus Webb) نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہالی ووڈ کے اداکار سیلویسٹر اسٹیلون نے اپنی نئی فلم دی ایکسپینڈ ایبل (The Expendables) کے لیے ان کے اسکرین پلے اور کہانی The Cordoba Caperسے کئی حصے نقل کیے ہیں۔ مارکوس ویب نے اس مناسبت سے یہ بھی کہا ہے کہ فلم دی ایکسپینڈ ایبل کے کئی حصے حیران کُن انداز میں ہو بہو ان کی کہانی سے مطابقت رکھتے ہیں۔

مارکوس ویب نامی مصنف اس دیوانی مقدمے میں حقوقِ دانش یا انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کی خلاف ورزی کرنے پر امکاناً بھاری ہرجانہ وصول کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس کی مالیت عام نہیں کی گئی ہے۔ عدالت سے مارکوس ویب نے حکم امتناعی یا سٹے آرڈر جاری کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔ سرقے کے مقدمے میں سیلویسٹر اسٹیلون کے ساتھ ساتھ فلم دی ایکسپینڈ ایبل کے شریک مصنف ڈیوڈ کالاہم (David Callaham) اور فلمساز ادارے میلینیم فلمز اور پروڈکشن یونٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔ سیلویسٹر اسٹیلون بھی اس فلم کے اسکرین پلے رائٹرز میں سے ایک ہیں۔

Flash-Galerie 100 Jahre Hollywood

سیلویسٹر اسٹیلون کی نئی فلم اگست میں ریلیز کی گئی

اس مقدمے کی مناسبت سے ممتاز اداکار اسٹیلون کی تشہیری مہم کی نگران مشائیلہ بیگا نے فوری طور پر کسی قسم کے تبصرے سے انکار کردیا ہے۔ دوسری جانب فلم کے پروڈکشن ادارے میلینیم فلمز کے وکیل فریک ڈا مارٹینی کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے جاری ہونے والا نوٹس ان تک ابھی نہیں پہنچا ہے اور اس کی وصولی سے قبل وہ کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ اسی طرح فلم دی ایکسپینڈ ایبل کے تشہیر کنندہ اور ریلیز کرنے والے ادارے لائن گیٹ انٹرٹینمنٹ کارپوریشن کی جانب سے بھی مارکوس ویب کی جانب سے دائر کیے جانے والے دیوانی مقدمے پر کوئی رائے نہیں دی گئی۔

سیلویسٹر اسٹیلون کی فلم دی ایکسپینڈ ایبل اس سال اگست کے مہینے میں ریلیز کی گئی ہے۔ اس فلم کا دوسرا حصہ اگلے سال سترہ اگست کو ریلیز کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ فلم کی کہانی لاطینی امریکہ کے ایک ملک پر حکمران فوجی آمر جنرل گارزا کے خلاف مسلح مہم پر مبنی ہے اور اس کے لیے انتہائی تربیت یافتہ کرائے کے فوجیوں کی خدمات لی جاتی ہیں۔ ناول اور فلم میں مرکزی ولن کا نام جنرل گارزا ہے۔

مارکوس ویب نے اپنا اسکرین پلے اور کہانی دی کارڈوبا کیپر کو امریکی کاپی رائٹس دفتر میں سن 2006 میں رجسٹرڈ کروایا تھا۔ مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ فلم کی کہانی سن 2009 میں تیار کی گئی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس