1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سیلفی کا جنون اندازوں سے کہیں زیادہ ہلاکت خیز

دنیا کے بہت سے انتہائی خوبصورت یا پرخطر مقامات پر آن لائن اشاعت کے لیے اپنی تصویر لینے یا سیلفی بنانے کا جنون اب تک کے اندازوں کے برعکس اتنا ہلاکت خیز ثابت ہو رہا ہے کہ حکام ہنگامی اقدامات پر مجبور ہو گئے ہیں۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے جمعرات تین ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق کئی ملکوں میں بہت سے انتہائی پرخطر مقامات پر حکام نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے مختلف طرح کے اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ سیلفی بنانے کے دوران پیش آنے والے ہلاکت خیز واقعات میں کمی لائی جا سکے۔

روئٹرز کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران موبائل فون سے سیلفی بنانے کا رجحان اتنا مقبول ہو چکا ہے کہ اب عالمی سطح پر معروف برطانوی ملکہ الزبتھ ثانی، امریکی صدر باراک اوباما اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جیسی شخصیات بھی اپنی سیلفیاں بناتی ہوئے دیکھی جا سکتی ہیں۔

سیلفی کا یہی شوق اپنی تصویریں اتارنے والے افراد کو عوامی مقامات پر ایسی حرکتیں کرنے اور ایسے خطرات قبول کرنے پر بھی مجبور کر دیتا ہے، جہاں ذاتی سلامتی کے حوالے سے ذمے دارانہ رویہ بہت پیچھے رہ جاتا ہے اور نتیجہ اکثر فوٹوگرافر کی اپنی موت یا زخمی ہو جانے کی صورت میں نکلتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی بہت اونچی عمارت کی چھت پر یا دیوار سے لٹک کر تصویریں بنانا یا پھر دھماکہ خیز مواد کے ساتھ کی جانے والی فوٹوگرافی۔

اب تک کئی ملکوں میں حکومتیں اور پبلک سکیورٹی ادارے سیلفی کے جنون کو عوامی سلامتی کے لیے سنجیدہ نوعیت کا خطرہ قرار دے چکےہیں۔ متعدد معاشروں میں تو اب اس سلسلے میں عوامی شعور کی بیداری کے باقاعدہ پروگرام بھی شروع کیے جا چکے ہیں۔

سیلفی کا جنون کن حالات میں اور کس کس طرح جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ لگانے کے لیے چند مثالیں ہی کافی ہیں: اس سال جون میں روس میں اُورال کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کی چوٹی پر دو نوجوان اس وقت ہلاک ہو گئے جب انہوں نے ایک دستی بم کی پن نکالتے ہوئے اس کے ساتھ اپنی سیلفی بنانے کی کوشش کی۔

اسی طرح ماسکو میں مئی کے مہینے میں ایک خاتون نے ایک بندوق اپنے سر کے قریب رکھ کر سیلفی بنانے کی کوشش کی تو نتیجہ یہ نکلا کہ بندوق اچانک چل گئی اور یہ خاتون سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئی۔ جون ہی کے مہینے میں ایک اکیس سالہ روسی طالبہ نے ماسکو میں ایک پل سے لٹک کر اپنی سیلفی بنانے کی کوشش کی تو توازن برقرار نہ رکھ سکنے پر وہ چالیس فٹ نیچے جا گری اور نتیجہ اس کی موت کی صورت میں نکلا۔

امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک انیس سالہ نوجوان، جو دو بچوں کا باپ تھا، دو ستمبر کو سیلفی بنانے کی ایک کوشش کے دوران ایک بندوق سے اپنی ہی گردن پر فائر کر کے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

ان اور سیلفی بنانے کے دوران پیش آنے والے ایسے ہی بہت سے دیگر واقعات کے باعث یورپی یونین کے رکن ملکوں میں اس سال جون سے ایک نیا قانون بھی تجویز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت مشہور یورپی سیاحتی مقامات، مثال کے طور پر پیرس کے آئفل ٹاور یا روم کے تریوی فاؤنٹین جیسے مقامات پر بنائی گئی سیلفیوں کی سوشل میڈیا پر اشاعت ممنوع قرار دے دی جائے گی۔

ایک اور اہم اقدام بہت مصروف، پرہجوم یا پرخطر مقامات پر عام صارفین کی طرف سے سیلفیاں بنانے پر عائد کردہ وہ پابندی بھی ہے، جس کے تحت اب زیادہ سے زیادہ ’نو سیلفی زون‘ متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

DW.COM