1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیلفی لیتے ہوئے پاکستانی لڑکی والدین سمیت ہلاک

پاکستان کے شمالی علاقے میں ایک گیارہ سالہ لڑکی سیلفی لیتے ہوئے دریا میں گرنے سے ہلاک ہو گئی ہے اور اس کے والدین اپنی بیٹی کی جان بچانے کی کوشش میں لقمہ اجل بن گئے۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق سیلفی لیتے ہوئے گیارہ سالہ لڑکی اور اس کے والدین کے ڈوبنے کا واقعہ صوبہ خیبر پختونخوا کے دریائے کنہار میں پیش آیا۔ یہ خاندان پہاڑی سیاحتی مقام بیسیاں میں کچھ دیر کے لیے رکا تھا، جہاں یہ حادثہ رونما ہوا۔ بیسیاں کا علاقہ دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباﹰ دو سو کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

یہ مقام گہرے پانی کے تیزی کے ساتھ پتھروں سے ٹکرانے کی وجہ سے مشہور ہے۔ مقامی پولیس افسر ارشد خان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہلاک ہونے والی لڑکی کا نام صافیہ عاطف ہے اور وہ پتھروں کے انتہائی قریب جا کر سیلفی بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس دوران اس کا پاؤں پھسلا اور وہ دریا میں جا گری۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ جس وقت یہ واقعہ رونما ہوا، اس وقت وہاں کئی دیگر سیاح بھی موجود تھے۔ لڑکی کے پانی میں گرنے کے بعد اس کی ماں شازیہ عاطف نے بھی پانی میں چھلانگ لگا دی تاکہ وہ بیٹی کو بچا سکے لیکن تیز لہریں اسے بھی اپنے ساتھ بہا کر لے گئیں۔

ارشد خان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’ماں اور بیٹی دونوں کو ڈوبتا دیکھ کر باپ عاطف حسین نے بھی ان کو بچانے کے لیے پانی میں چھلانگ لگا دی اور وہ بھی پانی میں ڈوب گیا۔‘‘ امدادی کارکنوں کے مطابق ماں اور بیٹی کی لاشیں مل گئی ہیں جبکہ عاطف حسین کی لاش کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے میاں بیوں صوبہ پنجاب میں ڈاکٹر تھے اور اپنے بچوں کے ہمراہ چھٹیاں گزارنے کے لیے شمالی علاقے میں آئے ہوئے تھے۔ ان کے ہمراہ ایک دوسری نو سالہ بیٹی اور ایک چھ سالہ بیٹا بھی تھا، جو اس واقعے کے وقت وہاں ہی موجود تھے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا، ’’یہ دونوں چھوٹے بچے انتظامیہ کی تحویل میں ہیں اور رشتہ داروں کے پہنچنے کے بعد انہیں ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔‘‘

ایک عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ اس مقام پر ہر سال متعدد لوگ پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو جاتے ہیں اور حکومت نے وہاں ایسے انتباہی بورڈز لگا رکھے ہیں کہ پانی کے قریب مت جائیے۔ اس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک سیاحتی مقام ہے اور ہر سال یہاں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے لیکن انہیں پانی کی گہرائی کا علم نہیں ہوتا۔

یاد رہے کہ دنیا میں میں سیلفی لیتے ہوئے درجنوں افراد، جن میں زیادہ تر نوجوان تھے، ہلاک ہو چکے ہیں۔ پانچ جولائی کو ایمزون جنگل میں ایک خاتون سیلفی لیتے ہوئے ہلاک ہو گئی تھی۔ اسی طرح روں برس پیرو میں ایک جرمن سیاح خاتون بھی سیلفی بناتے ہوئے پہاڑ سے نیچے گر کے ہلاک ہو گئی تھیں۔