1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیلز ٹیکس سے متعلق بحث، ایوان میں شدید ہنگامہ

ایوان بالا سینٹ میں حکومت کی اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کی شدید مخالفت کے باوجود اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس سے متعلق قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات کو منظور کر لیا گیا ہے۔

default

قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر رائے شماری کے وقت بھی ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ق نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ آج جمعہ کو سینٹ کا اجلاس خاصا ہنگامہ خیز رہا جس میں حکومتی ارکان اپنے ہی اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے ساتھ نبردآزما رہے۔ حکومت کی اتحادی ایم کیو ایم اور جے یو آئی کے سینیٹروں نے آر جی ایس ٹی کے نفاذ کو عوام دشمنی پر مبنی قرار دیا۔ اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن ، ق اور جماعت اسلامی کے سینیٹروں نے بھی ایوان میں بل کی شدید مخالفت کی۔ جمعے کی نماز کے وقفے کے بعد چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک نے ہنگامہ آرائی کے دوران ہی سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات پر رائے شماری کرائی اور پھر زبانی ووٹنگ پر ان کی منظوری دے دی گئی۔ بعد ازاں ایم کیو ایم نے اسے سینٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔ ایم کیو ایم کے سینیٹر اور وفاقی وزیر بابر غوری کے مطابق چیئرمین سینٹ نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکثریت کو اقلیت میں بدلا۔ انہوں نے کہا’’اگر حکومت کو پیسے چاہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ٹیکس نیٹ بڑھے توزرعی شعبے میں وڈیروں اور جاگیرداروں پرجو اربوں کروڑوں روپے کما رہے ہیں ٹیکس لگایا جائے لیکن آج حکومت کے دوستوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ایک بار پھر غریب عوام جو کہ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ان پر ایک نیا ٹیکس لگانے کی منظوری دی۔‘‘

ادھر مسلم لیگ ن کے رہنمائوں نے حکومتی فتح کا ذمہ دار ق لیگ کو ٹھہرایا۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید کے مطابق اگر ق لیگ واک آئوٹ کر کے غداری نہ کرتی تو حکومت ان سفارشات کو منظور نہ کروا سکتی۔ جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر عبدالغفور حیدری نے بھی کچھ ایسا ہی بیان دیا ’’آپ روز دیکھتے اور سنتے ہیں کہ یہ غریب کی بات کرتے تھکتے نہیں لیکن آج ان کا کردار آپ کے سامنے آیا کہ انہوں نے غریب کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور اب غریب کی کمر سیدھی نہیں ہو سکے گی۔‘‘

Flutkatastrophe in Pakistan / Hochwasser / Proteste / NO-FLASH

حکومت کو پہلے ہی سیلاب متاثرین کی ابتر حالت کے سبب شدید تنقید اور احتجاج کا سامنا ہے

اس موقع پر وفاقی وزراء عبدالحفیظ شیخ اور بابر اعوان کا کہنا تھا کہ آر جی ایس ٹی کے معاملے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے حالانکہ اس کے نفاذ سے عوام کو فائدہ ہوگا۔ دریں اثناء اب آر جی ایس ٹی کا بل سینٹ کی سفارشات سمیت منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں آئے گا۔ ادھر مسلم لیگ ن کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اتحادیوں نے ساتھ دیا تو قومی اسمبلی سے یہ بل منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ’’ان حکومتی اتحادیوں کے بغیر یہ بل وہ پاس نہیں کرا سکتے لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں اپنے موقف پر برقرار رہتی ہیں یا نہیں لیکن اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ ن ہر حال میں اس کے خلاف ووٹ دے گی۔ اور اس معاملے پر بھی شاید حکومت کو این آر او جیسی حزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور حکومت کی اتحادی جماعتوں نے ساتھ نہ دیا تو حکومت اس سے دستبردار ہو سکتی ہے۔‘‘

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے حکومت کو سخت سیاسی ردعمل کے باوجود اس بل کو منظور کروانا ہوگا جس کے لیے اسے عوامی رد عمل بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ تاہم اپنی اتحادی جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے حکومت کو پریشانی کا سامنا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس