1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سیلاب کے چھ ماہ بعد، مستقبل غیر یقینی

پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے چھ ماہ بعد بھی پاکستان کے صوبہ سندھ میں کھیتی باڑی پر انحصار کرنے والا ایک گاؤں نہ صرف تباہ حال ہے بلکہ اس کے رہائشی اب بھی سڑکوں کے کنارےبے یقینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

default

اپنے گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی سکت نہ رکھنے والے یہ غریب اور حکومت سے شاکی دیہاتی سڑکوں کے کنارے خیموں میں مقیم یہ دعائیں کر رہے ہیں کہ اس سال جولائی میں آنے والا مون سون کا موسم ان کے لیے کوئی نئی مصیبت نہ لائے۔

ایسے ہی ایک خیمے میں مقیم علیمی سومرو اپنی دو ماہ کی پوتی کے پیر پر بندھے گندے پلاسٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ، "ہمیں مشکل سے کوئی امداد مل رہی ہے۔ اگر مزید سیلاب آیا تو ہم کہاں جایئں گے۔ ہمارے پاس تو اتنا پیسہ بھی نہیں کہ یہاں سے بھاگ سکیں"۔

Pakistan Überschwemmung Flutkatastrophe Flüchtlingslager bei Karachi

لاکھوں سیلاب متاثرین اب بھی عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں

گزشتہ برس جولائی میں پاکستان میں آنے والے سیلاب سے تقریباﹰ 11 ملین افراد بے گھر ہوئے تھے۔ اس سیلاب کے بعد ملکی ا فوج نے امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا جبکہ حکومت اور سیاسی رہنماؤں کو اس مشکل گھڑی میں سست ردعمل ظاہر کرنے پر عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایسے میں اگر ملک میں ایک اور سیلاب آ جائے تو پہلے سے ہی سیلاب سے متاثر علاقوں کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

گو کہ پاکستان کو سیلاب زدگان کے لیے ایک بلین ڈالر سے زائد کی امداد دی جا چکی ہے تاہم سندھ کے بہت سے علاقے نہ صرف اب بھی سیلابی پانی میں گھرے ہوئے ہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں اس باعث بے گھر ہونے والے افراد عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

Pakistan Überschwemmung Flutkatastrophe Hilfe für Flüchtlinge

ناکافی امداد کے باعث سیلاب متاثرین مستقبل کے لیے غیر یقینی کا شکار ہیں

خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے کیے جانے والے انٹریوز میں اکثر دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ اب تک صرف چند لوگوں کو ہی حکام کی جانب سے معاوضے کے طور پر وہ رقم ادا گئی ہے، جس کی مالیت 20 ہزار پاکستانی روپے یا 233.9 ڈالر بنتی ہے اور جو بے انتہا مہنگائی کے اس دور میں بہت کم ہے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ شاید برسوں بعد ہی وہ اس قابل ہوں کہ دوبارہ کاشتکاری کر سکیں۔ اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے زیادہ تر کسان اب محنت مزدوری کر رہے ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے جلد داد رسی کی امید کم ہی ہے۔

دوسری جانب سیاسی کشمکش کی شکار پاکستانی حکومت اگر متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے کو ئی قدم اٹھانا بھی چاہے تو اس کے لیے لاکھوں متاثرین سیلاب کے لیے فنڈز پیدا کرنا ایک مشکل امر ہو گا۔

ادھر حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی ترجمان فوزیہ وہاب کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کی ہر ممکنہ مدد کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول اب کسانوں کو بلا معاوضہ کھاد اور بیج فراہم کیے جا رہے ہیں تاہم حکومت کو ابھی بھی ناکافی امدادی رقم کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امجد علی

DW.COM