1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیلاب کے ساتھ مٹی کے تودوں نے بھی تباہی مچا دی

پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ ایک علاقے میں مٹی کے تودے گرنے سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے علاقے میں ملبے سے 28 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

default

Überschwemmung in Pakistan

سیلاب سے گاؤں کے گاؤں زیر آب آئے

مٹی کے تودے گرنے سے متاثرہ علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ گلگت بلتستان کے علاقے سکردو میں مٹی کے تودے گرنے کا واقعہ ہفتہ کو پیش آیا۔ وہاں مقامی حکام نے اتوار کو بتایا کہ اس حادثے میں چالیس افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ مقامی انتظامیہ کے عہدے دار محمد علی یوگوی نے بتایا، ’ہم 28 لاشیں نکال چکے ہیں، مزید لوگ ملبے تلے دبے ہیں۔‘

دوسری جانب مسلسل بارشوں کے باعث ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی متاثرین تک رسائی مشکل بنی ہوئی ہے۔ ملک کے شمال مغربی علاقوں میں سڑکیں بہہ جانے سے ڈیڑھ کروڑ سیلاب زدگان میں سے بیشتر تک امداد ابھی تک نہیں پہنچ پائی۔ حکام کا کہنا ہے کہ وادیء سوات دیگر علاقوں سے کٹ کر رہ گئی ہے۔ وہاں متاثرین خوراک اور ایندھن کی عدم دستیابی کی شکایت کر رہے ہیں۔

اتوار کو خیبر پختونخوا صوبے میں عورتوں اور بچوں سمیت مزید نو افراد کے مرنے کی اطلاع ملی۔ صوبائی حکام کے مطابق صوبے میں تین مختلف مقامات پر مٹی کے تودے گرے ہیں، جہاں ہر طرح کے ٹریفک کے لئے روڈ بند کر دئے گئے ہیں۔

سیلاب نے پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ میں بھی تباہی مچائی ہوئی ہے، جہاں فوج اور امدادی ٹیمیں غریب خاندانوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ تاہم آئندہ 36 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیشن گوئی کے باعث صورت حال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

دریاے سندھ میں پانی کی سطح بتدریج بلند ہو رہی ہے، جس کے باعث توری بند گاؤں کے قریب ایک نہر میں شگاف پڑنے سے قریبی علاقے زیرآب آ گئے۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010

ذرائع مواصلات درہم برہم ہوگئے

سیلاب کے باعث بجلی پیدا کرنے کے متعدد پلانٹس کو بھی خطرے کا سامنا ہے، جن میں سے بعض کو بند کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان پہلے ہی بجلی کے شدید بحران کا شکار ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے باعث کم از کم 1600 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ڈھائی لاکھ سے زائد گھر متاثر یا تباہ ہو چکے ہیں جبکہ زیر آب آنے والی زرعی اراضی کا رقبہ تقریباﹰ 14 لاکھ ہیکٹر ہے۔

دو ہفتے سے چلی آ رہی اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لئے برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور امریکہ نے ہزاروں ملین ڈالر کی امدادی رقم دینے کے وعدے کئے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM

ویب لنکس