1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سیلاب کے ایک سال بعد، وادی سوات کے لوگوں کو نیا خطرہ

پاکستان میں گزشتہ برس جولائی کے آخر میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے قریب دو کروڑ شہریوں کو متاثر کیا تھا۔ ان میں وادی سوات کے بے شمار شہری بھی شامل تھے، جنہیں اب نئے سرے سے شدید خطرات لاحق ہیں۔

default

پچھلے سال جو اکیس ملین کے قریب شہری ملکی تاریخ کے شدید ترین سیلاب کے نتیجے میں اپنے گھر بار سے محروم ہو گئے تھے، ان میں بہت خوبصورت وادی سوات کے مختلف حصوں کے باسی بھی شامل تھے۔ سیلاب کے بعد ان لوگوں کی جو امداد کی گئی، اس کے نتیجے میں وہ معمولی سی حد تک دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں کامیاب تو ہو گئے تھے تاہم اب انہیں دوبارہ نئے خطرات کا سامنا ہے۔

سوات میں طالبان کی عسکریت پسندی اور ملکی فوج کی ان انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی بھی ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔ اب طالبان کی بغاوت کے اثرات کے مارے وادی سوات کے یہی لوگ ایک بار پھر اس وادی میں مقابلتا زیادہ اونچی جگہوں پر منتقل ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس لیے خطرہ ہے کہ وہ ایک بار پھر سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔

NO FLASH Pakistan Überschwemmung

سوات میں نئے سرے سے سیلابوں کا خطرہ موجود ہے

پچھلے سال جب پاکستان میں سیلاب آیا تھا، تو دریائے سوات کے کنارے آریانہ نامی ایک چھوٹے سے گاؤں کے پینتالیس میں سے صرف دو گھر باقی بچے تھے۔ تب پورے پاکستان کا پانچواں حصہ زیر آب آ گیا تھا۔ تب پوری وادی سوات میں تین ہزار گھر تباہ ہو گئے تھے اور دو لاکھ کے قریب افراد پوری طرح بے گھر۔

اب مینگورہ میں اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے سوات کے ضلعی کمشنر کامران رحمان خان کا کہنا ہے کہ سوات میں تعمیر اور بحالی کا کام بڑے تسلی بخش انداز میں جاری ہے۔ کامران رحمان خان کے مطابق وادی سوات میں اکثر بڑے کام مکمل کیے جا چکے ہیں۔ صرف شمالی کالام کے علاقے میں پختہ سڑک کی تعمیر اور بجلی کی بحالی کا کام باقی ہے۔ ان کے مطابق انہیں توقع ہے کہ یہ کام بھی آئندہ چھ مہینے سے لے کر ایک سال کے دوران مکمل کر لیا جائے گا۔

Flash-Galerie Amnesty International Lateinamerika

کئی مقامی شہریوں کے بقول اس علاقے میں ابھی بھی نئے سرے سے سیلابوں کا خطرہ موجود تو ہے تاہم وہ اگر کسی پر اعتماد کرتے ہیں تو وہ ملکی فوج ہے۔ فوج نے اس علاقے میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح کافی تیز رفتاری سے بحالی کے منصوبے مکمل کیے ہیں۔

اس کے علاوہ دریائے سوات کے کنارے جو لوگ پچھلے سال اپنے گھر بار سے محروم ہو گئے تھے، انہوں نے بھی اپنے گھروں کی دوبارہ تعمیر کے لیے حکومتی امداد کا انتظار نہیں کیا تھا بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت کام شروع کر دیا تھا۔

وادئ سوات میں بسنے والے تمام افراد کے دلوں میں نئے سرے سے آنے والے سیلاب کا خوف تو موجود ہے لیکن اس کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ یہاں رہنے کے علاوہ ان کے پاس کو ئی چارہ نہیں۔

گزشتہ ماہ پاکستان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا تھا کہ رواں برس مون سون میں ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے تقریبا چھ ملین کے قریب افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM