1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سیلاب کی صورت میں چیونٹیوں کی اجتماعی جدوجہد

سائنسدانوں کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق ’فائر اینٹس‘ کے نام سے جانی جانے والی چیونٹیاں سیلابی پانی میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے آپس میں مل کر ایک تیرتے ہوئے بیڑے کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

default

اس تحقیق کے نتائج امریکہ کے ’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنس‘ (PNAS) نامی تحقیقی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔ تحقیق کے دوران جنوبی امریکہ میں جہاں اکثر وبیشتر سیلاب آتے رہتے ہیں، فائر اینٹس کے بارے میں جامع مشاہدات کیے گئے۔ ان مخصوص چیونٹیوں کو سائنسی اصطلاح میں ’سولینوپسس انویکٹا‘ (Solenopsis invicta) کہا جاتا ہے۔

چیونٹیاں گروپ کی شکل میں مجموعی ذہانت کے حوالے سے مشہور ہیں۔ یہی وہ مجموعی ذہانت ہے جو سیلاب کی صورت میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ایک تیرتے بیڑے کی شکل اخیتار کرنے کے پیچھے کار فرما ہے۔ امریکی شہر اٹلانٹا کے جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے منسلک محقق ’ڈیوڈ ہو‘ David Hu کے مطابق ایسی صورت میں یہ چیونٹیاں اپنے جبڑوں اور پنجوں کے ذریعے ایک دوسرے کو مضبوطی سے پکڑ لیتی ہیں اور سب مل کر ایک جتھے یا بیڑے کی سی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ چیونٹیوں کے اس طرح کے تیرتے جتھوں کا مشاہدہ اکثر کیا جاتا رہا ہے، تاہم اس سے قبل اس بارے میں جاننے کے لیے زیادہ تردد نہیں کیا گیا۔

محققین کے مطابق ’فائر اینٹس‘ ایک جتھے کی شکل میں ایک لمبے عرصے تک پانی کی سطح پر تیر سکتی ہیں

محققین کے مطابق ’فائر اینٹس‘ ایک جتھے کی شکل میں ایک لمبے عرصے تک پانی کی سطح پر تیر سکتی ہیں

محققین نے مشاہدہ کرنے کے لیے 500 سے آٹھ ہزار تک کی تعداد میں چیونٹیوں کو بیک وقت پانی میں ڈالا، جو جلد ہی ایک ہی جگہ جمع ہو گئیں اور انہوں نے چند منٹ میں ہی ایک گول روٹی کی سی شکل اختیار کر لی۔ محققین کے مطابق ان میں سے آدھی کے قریب چیونٹیاں پانی کی سطح سے نیچے تھیں، تاکہ باقی ماندہ کو تیرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے۔ محقیقین کے مطابق اس طریقے سے ہزاروں سے لے کر لاکھوں کی تعداد میں چیونٹیاں پانی کی سطح پر اس طرح سفر کرسکتی ہیں کہ ان میں سے ایک بھی پانی میں ڈوب کر ہلاک نہ ہو۔

اس تیرتے ہوئے بیڑے کی سطح کے نیچے ہوا بھی موجود ہوتی ہے، جس سے نہ صرف اس بیڑے کو سطح پر رہنے میں مدد ملتی ہے بلکہ اس فارمیشن سے جڑی پانی کے اندر موجود چیونٹیاں زندہ بھی رہتی ہیں۔ محققین کے مطابق کسی دوسری مناسب جگہ پر رہائش اختیار کرنے سے قبل ’فائر اینٹس‘ اس شکل میں ایک لمبے عرصے تک پانی کی سطح پر تیر سکتی ہیں۔

محققین کے مطابق گول روٹی کی شکل میں جڑی ان چیونٹیوں میں سے جب کسی ایک چیونٹی کو نکال لیا جائے تو اس کے قریب کی چیونٹی اپنی قریب ترین ساتھی کے ساتھ جُڑ جاتی ہے، تاکہ بیڑے کی مضبوطی قائم رہے۔ سائنسدان اور مکینیکل انجینئرز چیونٹیوں کی اس صلاحیت کے بارے میں تفصیلی معلومات اکٹھی کرکے اسے روبوٹس میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس