1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیلاب سے پندرہ لاکھ متاثر، 1,100 سے زائد ہلاک

پاکستان میں گزشتہ کئی عشروں کے شدید ترین سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اتوار کی شام تک 1,100 سے زیادہ لاشیں نکالی جا چکی تھیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ مرنے والوں کی تعداد 1,300 سے بھی زیادہ بتا رہے ہیں۔

default

سیلاب سے متاثر ایک روتا ہوا بچہ

شدید متاثرہ صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے مطابق مجموعی طور پر 1.5 ملین انسان متاثر ہوئے ہیں۔ صوبے کے شہری تحفظ کے محکمے کے ایک نمائندے نے بھی اِن اعداد و شمار کی تصدیق کی ہے۔ صوبے کے آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق ہلاکتیں ڈیڑھ ہزار سے تجاوز کرچکی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ زبردست بارشوں کے نتیجے میں آنے والا یہ سیلاب ملک کی تاریخ کا بدترین سیلاب ہے۔ ہزارہا انسانوں کا باقی دُنیا سے رابطہ کٹ چکا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ صوبے خیبر پختونخوا میں ہیضے کے ابتدائی واقعات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مواصلاتی روابط منقطع ہونے کے باعث بین الاقوامی امدادی تنظیمیں ابھی یہ اندازہ لگانے سے قاصر ہیں کہ کتنے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔

امریکہ نے دَس ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں ہیلی کاپٹر، کشتیاں اور عارضی پُل بھی شامل ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا، ’پاکستانی عوام ہمارے دوست اور ساتھی ہیں اور امریکہ اُن کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا‘۔ یورپی یونین نے تیس ملین یورو، جرمن حکومت نے ایک ملین یورو جبکہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ قبل جرمنی ہی میں قائم ہونے والی بین الاقوامی رفاہی تنظیم کاریٹاس انٹرنیشنل نے پچاس ہزار یورو کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔

عوامی جمہوریہء چین نے، جو خود بھی شدید سیلاب کی زَد میں آیا ہوا ہے، پاکستان کے لئے دَس ملین یوآن (1.5 ملین ڈالر) کی مدد کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ بیرنارڈ کُشنیر نے پاکستان کے ساتھ یک جہتی کا

Überschwemmung in Pakistan Flash-Galerie

سیلابی پانی سے گزرتے لوگ

اظہار کیا ہے اور یورپی یونین کی طرف سے کی جانے والی امدادی کوششوں کی بھرپور تائید و حمایت کی ہے۔ کُشنیر اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی آج پیر کو پیرس میں پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات کریں گے، جو آج سے فرانس کا دو روزہ دَورہ شروع کر رہے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 47 بتائی جا رہی ہے۔ وادیء نیلم سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، جہاں امدادی کارروائیوں کے لئے فوج کے ہیلی کاپٹرز طلب کر لئے گئے ہیں۔ پاکستانی کشمیر میں آفات سے نمٹنے کے محکمے کے سربراہ فاروق نیاز کے مطابق وادیء نیلم کا علاقہ باقی کشمیر سے کٹا ہوا ہے اور یہ معلوم نہیں ہو پا رہا کہ وہاں کتنے لوگ پھنسے ہوئے ہیں یا ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں 3,700 سے زیادہ مکانات سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں اور بے گھر ہو جانے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ تاہم حکام نے بتایا ہے کہ اسلام آباد اور پشاور کو ملانے والی رابطہ موٹر وے کے تباہ شُدہ

Überschwemmung in Pakistan

خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں پھیلا سیلاب: فضائی تصویر

حصے کی مرمت کر دی گئی ہے، جس کے بعد ملک کے شمالی مغربی حصے کا باقی ملک کے ساتھ زمینی رابطہ بحال ہو گیا ہے۔

پاکستانی فضائیہ نے بتایا ہے کہ اُس نے پانی میں گھرے ہوئے چھ غیر ملکیوں سمیت پانچ سو سے زیادہ افراد کو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچایا ہے۔

اتوار کو سیلاب کے تین سو سے زیادہ متاثرین نے پشاور میں ایک جلوس نکالا اور مناسب رہائشی سہولتیں فراہم نہ کرنے پر صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اِس جلوس میں شریک 53 سالہ مزدور اعجاز خان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے کہا:’’مَیں نے پشاور کے نواح میں اپنی سخت محنت سے جمع کی گئی رقم سے دو کمروں والا ایک گھر بنایا تھا لیکن سیلاب نے وہ گھر مجھ سے چھین لیا۔ حکومت ہماری مدد نہیں کر رہی... جس سکول میں ہمیں ٹھہرایا گیا ہے، وہاں تِل دھرنے کو جگہ نہیں ہے، نہ ہی وہاں خوراک یا ادویات کا کوئی مناسب انتظام ہے۔‘‘

33 سالہ وصی اللہ نے کہا کہ اُس کے دو بھائیوں نے سعودی عرب میں مزدوری کر کے کچھ پیسے جمع کئے تھے، جن کی مدد سے اُنہوں نے فرنیچر تیار کرنے کی ایک چھوٹی سی فیکٹری قائم کی تھی لیکن سیلاب یہ فیکٹری بہا کر لے گیا۔ وصی اللہ نے کہا:’’مَیں توقع کرتا ہوں کہ صوبائی حکومت اِس فیکٹری کو پھر سے قائم کرنے میں ہمارے ساتھ مالی تعاون کرے گی۔‘‘

صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے مطابق امدادی ٹیمیں ضلع سوات میں پھنسے ہوئے ایک ہزار پانچ سو سیاحوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سوات کے کچھ علاقوں میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑنے کی بھی اطلاعات ہیں، جن کی تصدیق کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس