1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد سات ملین سے زائد، حکومت پاکستان

ہفتے کے روز پاکستانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں شدید بارشوں اور سیلابوں سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد سات ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔

default

بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام انتظامی مشینری ان متاثرہ افراد تک خوراک اور بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے جبکہ سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں سے شہریوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ملک میں مون سون کے سلسلے میں اگست کے آخر سے شروع ہونے والی بارشوں سے پاکستان کا جنوبی صوبہ سندھ بری طرح متاثر ہوا ہے، جہاں سینکڑوں دیہات زیرآب آگئے ہیں جبکہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوا  ہے۔

Flash-Galerie Pakistan Überschwemmungen

پاکسانی صوبہ سندھ ان بارشوں اور سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا ہے

پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی یا قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے، ’سات ملین سے زائد افراد جبکہ ملک کا دو اعشاریہ چار ملین ہیکٹر علاقہ اس قدرتی آفت سے متاثر ہوا ہے، جس میں کم از کم پچاس لاکھ مکانات بھی شامل ہیں۔‘‘

جمعے کے روز اس ادارے نے متاثرہ افراد کی تعداد پانچ اعشاریہ سات ملین بتائی تھی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے اب تک 342 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 633 ہے۔

اقوام متحدہ پاکستانی حکومت اور اداروں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں شریک ہے جبکہ اس عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جمعے کے روز اپنا دورہ امریکہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یوسف رضا گیلانی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی کرنا تھا تاہم وہ اب ملک میں جاری امدادی آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سیلاب سے خاص طور پر وہ علاقے متاثر ہوئے ہیں، جو گزشتہ برس بھی سیلاب اور شدید بارشوں کی وجہ سے بری طرح تباہ ہوئے تھے۔ سن 2010ء میں پاکستان میں تاریخ کی بدترین بارشوں اور سیلاب کے باعث لگ بھگ 2000 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جبکہ مجموعی طور پر 18 ملین افراد متاثر ہوئے تھے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: حماد کیانی

DW.COM